کراچی ایک بار پھر زلزلے سے لرز اٹھا، شہری خوفزدہ

کراچی ایک بار پھر زلزلے سے لرز اٹھا، شہری خوفزدہ

کراچی کے مختلف علاقوں میں آج ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

متاثرہ علاقے
زلزلے کے جھٹکے ملیر، شاہ فیصل کالونی، قائد آباد، یونیورسٹی روڈ اور گلزارِ ہجری سمیت متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے، جہاں لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

شدت اور دورانیہ
محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے زلزلے کی شدت اور گہرائی کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھٹکے ہلکی شدت کے تھے اور چند سیکنڈز تک جاری رہے۔

جون کے آغاز سے اب تک 34 جھٹکے
ذرائع کے مطابق یکم جون سے اب تک کراچی میں معمولی نوعیت کے زلزلے کے 34 جھٹکے رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تسلسل ممکنہ طور پر زیرِ زمین کسی تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے، جس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

محکمہ موسمیات کا ردعمل
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو افواہوں سے گریز کرنے اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے کے مطابق زلزلے کی نوعیت، شدت اور آفٹر شاکس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 ماہرین کی رائے
زلزلہ شناس ماہرین کے مطابق سندھ کے ساحلی علاقوں میں وقتاً فوقتاً ہلکی نوعیت کے جھٹکے آنا ایک معمول بن چکا ہے، تاہم اس طرح کی تسلسل کے ساتھ جھٹکوں کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کا ازسرنو معائنہ کیا جائے تاکہ کسی بڑی تباہی سے بچا جا سکے۔

 عوام سے اپیل
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ زلزلے کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، بلند عمارات میں رہنے والے افراد محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی تیاری رکھیں، اور ایمرجنسی نمبرز محفوظ رکھیں۔