ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد تہران میں عوامی جشن، اسرائیل میں ایک خاتون ہلاک، 60 زخمی

ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد تہران میں عوامی جشن، اسرائیل میں ایک خاتون ہلاک، 60 زخمی

ایران کی جانب سے اسرائیل پر سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں کے تاریخی حملے کے بعد تہران اور دیگر بڑے شہروں میں عوام کی جانب سے سڑکوں پر جشن منانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ حملوں کے نتیجے میں تل ابیب میں ایک خاتون ہلاک اور 60 کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔

بیلسٹک میزائلوں کے تین بیرج، تل ابیب نشانے پر
ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو "آپریشن وعدہ صادق 3" کے تحت اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کے تین بڑے بیرج داغے۔ اگرچہ اسرائیل کے آئرن ڈوم اور دیگر دفاعی نظام نے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم تل ابیب اور مضافاتی علاقوں میں کم از کم سات مقامات پر یا تو براہ راست میزائل گرے یا ان کے ملبے کے ٹکڑے گرنے سے املاک کو نقصان پہنچا اور لوگ زخمی ہوئے۔

ایک خاتون ہلاک، درجنوں زخمی
تل ابیب میں ایک رہائشی عمارت پر میزائل گرنے سے ایک خاتون ملبے تلے دب کر شدید زخمی ہو گئی تھیں، جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔اسرائیلی حکام کے مطابق، حملے میں 60 سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

ایرانی عوام کا ردعمل: سڑکوں پر جشن
ایرانی دارالحکومت تہران سمیت مشہد، قم اور دیگر شہروں میں شہریوں نے اسرائیل پر حملے کے جواب میں جشن منایا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر تہران اور شیراز سے ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی گئیں جن میں لوگ سڑکوں پر نکل کر آتش بازی، جھنڈیاں لہرانے اور نعرے بازی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان مناظر کو ایرانی ذرائع ابلاغ نے "عوامی فتح" سے تعبیر کیا۔

ایرانی میڈیا کے متنازعہ دعوے
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی دفاعی نظام نے اسرائیل کے دو ایف-35 بمبار طیارے مار گرائے اور ایک اسرائیلی خاتون پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔تاہم، اسرائیلی دفاعی حکام نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور تمام فضائی اہلکار بحفاظت ہیں۔

پس منظر: اسرائیلی حملے اور ایرانی ردعمل
یہ میزائل حملے ایران کی جانب سے اسرائیل کے جمعہ کی صبح کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ ان حملوں میں ایران کی کئی فوجی اور جوہری تنصیبات، سائنسدانوں کی رہائش گاہیں اور ملٹری کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ایرانی حکام کے مطابق، ان حملوں میں کم از کم 78 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 6 جوہری سائنسدان اور اعلیٰ فوجی افسران شامل تھے۔

خطے میں کشیدگی اپنی انتہاء پر
اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری یہ براہِ راست عسکری تصادم خطے میں نئی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اور دیگر حکام نے اعلان کیا ہے کہ جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ ایران کی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ "اسرائیل نے جو کیا، اس کی قیمت چکائے گا"۔