ایران اسرائیل جنگ کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

ایران اسرائیل جنگ کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

نیویارک / تہران / یروشلم – 14 جون:جمعہ کے روز اسرائیل اور ایران کے درمیان فضائی حملوں کے تبادلے نے دنیا بھر کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا، جس کا سب سے فوری اور نمایاں اثر عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔

جمعہ کو علی الصبح اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد، اسی روز رات گئے ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر تقریباً 150 بیلسٹک میزائل داغے۔ اس حملے کے فوری بعد سرمایہ کاروں میں خوف کی لہر دوڑ گئی کہ یہ تنازعہ مشرق وسطیٰ میں تیل کی برآمدات کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ یہی خدشہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا سبب بنا۔

تیل کی قیمتوں میں تیز ترین اضافہ
جمعہ کو نیویارک میں، برینٹ کروڈ فیوچر کے سودے 4.87 ڈالر یا 7.02 فیصد اضافے کے ساتھ 74.23 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔ دن کے دوران ایک موقع پر برینٹ کروڈ 13 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 78.50 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گیا، جو کہ 27 جنوری کے بعد بلند ترین انٹرا ڈے سطح تھی۔اسی طرح یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ میں 4.94 ڈالر یا 7.62 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 72.98 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ ٹریڈنگ کے دوران WTI نے 14 فیصد سے زیادہ چھلانگ لگا کر 77.62 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھو لیا — جو کہ 21 جنوری کے بعد سے اس کی سب سے زیادہ سطح تھی۔یہ دونوں اشاریئے 2022 میں روس-یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کے سب سے بڑے انٹرا ڈے اضافے تھے، جس وقت بھی عالمی منڈیوں میں اسی طرح کا خوف چھا گیا تھا کہ جنگ تیل کی عالمی رسد کو متاثر کر دے گی۔

پاکستان اور دیگر درآمدی معیشتوں کے لیے شدید خطرہ
پاکستان جیسے ممالک، جن کی معیشت پہلے ہی ڈالر کی کمی، مہنگائی اور درآمدی بلز کے بوجھ سے نڈھال ہے، کے لیے یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں ان سطحوں پر برقرار رہیں، تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ناگزیر ہو جائے گا، جس سے مہنگائی کی نئی لہر کا خطرہ ہے۔

ایران کی جوابی کارروائی اور خدشات
ایران کی طرف سے بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل کے سرکاری ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ اسرائیل مزید جوابی حملوں کی تیاری کر رہا ہے، جس کا دائرہ ایران کی تیل کی تنصیبات تک پھیل سکتا ہے — اگر ایسا ہوا تو خلیج فارس کی سکیورٹی صورتحال انتہائی نازک ہو جائے گی۔

آبنائے ہرمز بند ہونے کا خدشہ؟
اگرچہ ایران کی جانب سے ابھی تک آبنائے ہرمز میں کسی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع نہیں ملی، لیکن عالمی تجزیہ کاروں کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ جنگ کی شدت بڑھنے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں کے لیے بند کر سکتا ہے — جو کہ دنیا بھر میں تیل کی رسد کا تقریباً 20 فیصد حصہ سنبھالتی ہے۔ ایسی کسی پیش رفت کی صورت میں عالمی معیشت زبردست بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔