خامنہ ای کا سخت ردعمل: اسرائیل کو ’ہٹ اینڈ رن‘ حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی، سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے
تاریخ: 14 جون 2025
مقام: تہران – ایران
ذرائع: انٹرنیشنل نیوز ایجنسیاں، ایرانی سرکاری میڈیا
تازہ ترین بیان:
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے "ہٹ اینڈ رن" (مارو اور بھاگو) طرز کے حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے حملوں کے سنگین نتائج اسرائیل کو بھگتنا ہوں گے، اور ایران کا ردعمل ادھورا یا کمزور نہیں ہو گا۔
خامنہ ای کا مکمل موقف:
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا:"صیہونی حکومت نے جنگ کا آغاز کیا ہے۔ وہ اس گمان میں نہ رہے کہ وہ حملے کر کے بچ نکلے گی۔ہمارا پیغام واضح ہے: اسرائیل اپنے جرم کے نتائج سے محفوظ نہیں رہے گا۔ایرانی قوم کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ ہمارا ردعمل مکمل اور فیصلہ کن ہو گا، آدھا نہیں۔"یہ بیان ایک بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جسے تہران میں جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔
پس منظر:
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔یہ حملہ مبینہ طور پر اسرائیل کی جانب سے ایران کی فوجی تنصیبات پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے، جن میں کچھ ایرانی فوجی مارے گئے تھے۔خامنہ ای کا یہ آج کا دوسرا بیان ہے، جو اس بڑی جنگی پیش رفت کے دوران جاری ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت اعلیٰ سطح پر براہِ راست مداخلت کر رہی ہے۔
جنگی تناظر میں بیان کی اہمیت:
آیت اللہ خامنہ ای کے بیان کو ایران کی سرکاری جنگی پالیسی کی توثیق تصور کیا جا رہا ہے۔یہ اسرائیل کے لیے ایک سفارتی و عسکری وارننگ بھی ہے کہ اگر وہ ایران یا اس کے اتحادیوں پر مزید حملے کرے گا تو ردعمل اور بھی سخت ہو گا۔اس بیان سے خطے میں مزید شدت اور کسی بڑے جنگی تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
عالمی برادری کی نگاہیں ایران و اسرائیل پر:
اقوام متحدہ، امریکا، یورپی یونین اور چین سمیت عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔کچھ ذرائع کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی متوقع ہے۔