عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت دباؤ کا شکار، سرمایہ کار محتاط

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت دباؤ کا شکار، سرمایہ کار محتاط

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت گزشتہ کاروباری سیشن میں نمایاں کمی کے بعد دباؤ کا شکار رہی، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور امریکا میں شرح سود بڑھنے کے خدشات کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

بلوم برگ کے مطابق اسپاٹ گولڈ تقریباً 4,010 ڈالر فی اونس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ گزشتہ کاروباری روز اس کی قیمت میں 2.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بحال کرنے کا اعلان کیا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر تجارتی کارگو پر 20 فیصد ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا، جبکہ خام تیل اور یورپی قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں افراطِ زر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود مزید بڑھانے کے امکانات بھی مضبوط ہوئے ہیں۔ چونکہ سونا منافع یا سود فراہم نہیں کرتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی طلب پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔سرمایہ کار اب امریکی معاشی اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ انہی عوامل کی بنیاد پر عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کی آئندہ سمت کا تعین ہوگا۔