بااثر شخصیات،بلڈرز کو غیر قانونی سیکیورٹی، آئی جی سے رپورٹ طلب

 تعیناتیوں کے عوض ہر اہلکار سے 25 ہزار سے ایک لاکھ تک وصول کیے جاتے ہیں
بعض پولیس اہلکاروں کو 25 سے 30 ہزار روپے ماہانہ دے کر ڈیوٹی سے غیر حاضر رکھا جاتا ہے
 ایس پی محمود راجپوت اور ڈی آئی جی ڈاکٹر مقصود میمن مبینہ طور پر ان تعیناتیوں کی نگرانی کر رہے ہیں
کراچی(آئی این پی) صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ میں پولیس کے سیکیورٹی ونگ میں مبینہ کرپشن اور غیر قانونی تعیناتیوں کے خلاف اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے رپورٹ طلب کر لی ،شکایت غلام اکبر جتوئی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی۔ 100 پولیس اہلکاروں کو بااثر شخصیات، بلڈرز اور دیگر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کی سیکیورٹی پر غیر قانونی طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان تعیناتیوں کے عوض ہر اہلکار سے 25 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک مبینہ طور پر وصول کیے جاتے ہیں۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض پولیس اہلکاروں کو 25 سے 30 ہزار روپے ماہانہ دے کر سرکاری ڈیوٹی سے غیر حاضر رکھا جاتا ہے شکایت گزار کے مطابق ایس پی سیکیورٹی محمود راجپوت اور ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود میمن مبینہ طور پر ان تعیناتیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔