عمران خان کی ہدایت پر تحریک کا آغاز ہوچکا، 90 روز میں تحریک آر یا پار ہوگی: گنڈا پور

 90دن شروع ہوگئے،ریاستی ادارے حکومتیں گرانے اورچلانے کا کردارادا کررہے ہیں، عمران خان خود پر ظلم کے باوجود پاکستان کی خاطر مذاکرات کیلئے تیار ہیں
 آئیں بیٹھیں اپنی غلطیوں کو مانیں اور سدھاریں، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، پاکستان کے مسائل پی ٹی آئی ہی حل کر سکتی ہے،وزیراعلیٰ پختونخواکی پریس کانفرنس
لاہور(آئی این پی )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے 90روز کی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے ہم اس تحریک میں آر یا پار کریں گے، حکومت میں رہیں یا نا رہیں ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا لیکن ہم ملک کے کونے کونے میں جائیں گے اور عوام کو متحرک کریں گے، آج سے 90دن شروع ہوگئے ، سیاست کرنا ریاستی اداروں کا کام نہیں، ریاستی ادارے حکومتیں گرانے اورچلانے کا کردارادا کررہے ہیں،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے واضح کہا ہے وہ اپنے اور اپنی اہلیہ پر ہونے والے ظلم کے باوجود پاکستان کی خاطر مذاکرات کیلئے تیار ہیں، آئیں بیٹھیں اپنی غلطیوں کو مانیں اور سدھاریں، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آج قوم میں شعور آگیا ہے، 8فروری کو ثابت ہو اکہ قوم جاگ گئی ہے، بانی پی ٹی آئی کے کیسزنہیں چلائے جارہے کیوں کہ ان میں کچھ ہے ہی نہیں۔ عمران خان کے ووٹرز، سپورٹرز اور کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں کیوں کہ آج تک دنیا کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت پر اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا تحریک انصاف پر ہوا مگر لوگ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پورے پاکستان میں ہر گلی، کوچے، قصبے اور شہر سے لوگوں کو اکٹھا کریں گے اور پھر فیصلہ کریں گے کہ ہم نے مقامی سطح پر احتجاج کرنا ہے یا ایک جگہ جمع ہونا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف مقدمات میں انہیں کچھ نہیں ملا، ریاستی ادارے اس کام پر لگ گئے ہیں جو ان کا کام نہیں، آپ اس ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟۔علی امین گنڈاپور نے کہا آپ نے بار بار مارشل لا ء لگائے ، ان سے پاکستان کی جمہوریت کو عالمی سطح پر جتنا نقصان ہوا اتنا کسی چیز سے نہیں ہوا، مارشل لاء لگانے والے کہاں گئے؟ آج وہ پاکستان میں نہیں ہیں، بھگت عام پاکستانی رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں ایک مافیا کا سٹرکچر بن چکا ہے، وہ ریاستی ادارے جن کا کام سیاست کرنا نہیں ہے، وہ حکومتیں بنانے، چلانے اور گرانے میں اپنا سارا کردار ادا کررہے ہیں اور پھر جب ان سے پوچھا جائے تو بڑے مزے سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو غیر سیاسی ہیں ، ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ خدا کی قسم اس ملک میں سب سے زیادہ سیاست ادارے کررہے ہیں، اور اس کا نقصان کیا ہورہا ہے؟ میں خود ایک فوجی کا بیٹا اوربھائی ہوں، ہم نے اپنے ادارے خود ٹھیک کرنے ہیں، آئیں مل کر بیٹھیں اپنی غلطی کو مانیں اورسب ٹھیک کریں، آج بانی پی ٹی آئی کی بیوی کو بھی جیل میں ڈالا ہوا ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہاکہ عمران خان نے بڑا واضح کہا ہے کہ وہ اپنے اور اپنی اہلیہ پر ہونے والے ظلم کے باوجود پاکستان کی خاطر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، آئیں بیٹھیں اپنی غلطیوں کو مانیں اور سدھاریں، ہم پر 76 ہزار ارب سے زیادہ قرضہ چڑھ چکا ہے، ہم کس طرف جارہے ہیں، ہمارا ملک کس طرف جارہا ہے، یہ فیصلے کون کرے گا؟ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ سیاسی پارٹیاں دوسروں کے کندھوں پر بیٹھ کر آئی ہوئی ہیں، عوام ان سیاسی پارٹیوں کو مسترد کرچکے ہیں، یہ سیاسی پارٹیاں عوام میں نکل کر تو دیکھیں، اس ملک کا قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہئے، آپ کو جوابدہ ہونا پڑے گا، مجھ پر 26نومبر کی 56ایف آئی آرز درج ہوئی ہیں، آپ دلائل سے بات کریں ،ثابت کریں کہ میں نے ملک سے غداری کی ہے تو چوک پر لٹکادیں۔انہوں نے کہا کہ اپنی ذات اورانا سے نکلیں اور قوم کیلئے سوچیں، بانی نے پہلے بھی کہا آئیں بیٹھیں میرٹ اوردلائل پر بات کریں۔انہوں نے کہا کہ بانی تبدیلی کے لیے ہمیشہ 90دن کا کہا کرتے تھے، آج سے وہ 90دن شروع ہوگئے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ڈیڈ لاک کہیں بھی نہیں ہوسکتا، وقت ضائع کرکے مقاصد حاصل کیے جارہے ہیں، ہماری مخصوص نشستیں بھی لے لی گئیں، ان کی ٹائم لائن پر چلنا ہمیں سوٹ نہیں کررہا، میری یہ تربیت ہے کہ بانی پی ٹی اورپاکستان کے لیے کھڑا ہوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں میں کسی سے ملا ہوں، میں پاکستان کے لیے سب سے ملا ہوا ہوں، میرا لیڈر اور اس کی بیوی جیل میں ہے، یہ پاکستان کی جنگ ہے، پاکستان کے مسائل پی ٹی آئی ہی حل کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم آج پیر کو لاہور میں جلسہ کرنے کیلئے اجازت مانگیں گے، اجازت دی جائے، ہم پرامن آئے ہیں اورپرامن انداز سے ہی واپس جارہے ہیں، چند غلط فیصلوں اور چند لوگوں کی وجہ سے فوج بدنام ہورہی ہے، بارڈر پر کھڑا یا مسائل زدہ علاقوں میں میری اور میرے بچوں کی حفاظت کے لیے لڑنے والے فوجی کو غلط فیصلوں کی وجہ سے وہ عزت اور مقام نہیں ملا جو ملنا چاہیے۔