یہ واقعہ راولپنڈی کے علاقے سے سامنے آیا ہے اور اس میں ایک 13 سالہ لڑکی، جو گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی، کے ساتھ زیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔
مدعیہ نے پولیس کو بتایا کہ لڑکی کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اور والدہ کی دوسری شادی کے بعد وہ گزشتہ 7 سال سے اس خاندان کے پاس رہ رہی تھی۔ مدعیہ کا کہنا ہے کہ اس نے بچی کو تعلیم و تربیت کے لیے ایک اور خاتون، مسماۃ سنیلا عدیل کے پاس بھیجا تھا، جہاں بچی رہتی تھی اور ان سے ماہانہ 6 ہزار روپے بھی وصول کیے جاتے تھے۔مقدمے کے متن کے مطابق، بچی سے متعلق کچھ عرصہ تک بات چیت نہیں ہوئی، مگر 15 دسمبر کو مدعیہ اس سے ملنے کے لیے گئی اور اسے واپس لے آئیں۔ گاؤں پہنچ کر معلوم ہوا کہ بچی حاملہ ہے، اور اس سے پوچھنے پر بتایا گیا کہ اسے نیند کی گولیاں دے کر زبردستی زیادتی کی گئی ہے۔ بچی نے انکشاف کیا کہ تقریباً ایک ماہ قبل بھی اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور اس کے علاوہ اسے اور اس کے ساتھ موجود دیگر افراد شافع اور عدیل اسے مارتے پیٹتے بھی تھے اور دھمکیاں دیتے تھے۔
پولیس کے مطابق، مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے تاکہ ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے اور متاثرہ لڑکی کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ اس واقعہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ، ان کی حفاظت اور ان کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں اور بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔