امریکی جنگی طیاروں نے قطر کے العدید ائیر بیس پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں‘پینٹاگون نے متعدد آپشنز ٹرمپ کے سامنے رکھ دئیے، حملے چند دنوں کے اندر ممکن ہیں:امریکی اخبار
ایران نے برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی کے سفیروں کو وزارت خارجہ طلب کرکے مظاہروں کے دوران مسلح فسادیوں کی ویڈیوز دکھائیں ‘مظاہرین کی حمایت کرنا بند کریں:ایرانی حکام
دوحہ،واشنگٹن،تہران(آئی این پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں خبردار کیا ہے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔امریکی صدر نے کہا یہ حکم حتمی ہے اور اس اقدام کا اطلاق فوری طورپر ہوگا اور وہ تمام ممالک جو ایران کے ساتھ کاروبار کریں گے، انہیں امریکا کے ساتھ ہونے والی ہر قسم کی تجارت پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا‘دریں اثناء امریکی جنگی طیاروں نے قطر کے العدید ائیر بیس پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق العدید بیس سے کے سی 135 ائیر ریفیولنگ ٹینکرز اوربی 52 اسٹریٹیجک بمبار سمیت کئی امریکی جنگی طیارے پرواز کرگئے۔رپورٹ کے مطابق قطر میں واقع العدید ائیر بیس ایران کی سرحد سے 200 سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون نے امریکی صدر کے سامنے ایران کے خلاف مختلف آپشنز پیش کیے ہیں، جن میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر ممکنہ حملے کے ساتھ سائبر حملے اور ملک کے اندرونی سیکیورٹی نظام کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیں۔امریکی اخبار نے پینٹاگون کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایسے حملے چند دنوں کے اندر ممکن ہیں‘نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی زیر قیادت سینئر معاونین نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارتکاری کو موقع دینا چاہیے‘ امریکہ نے ایران میں کشیدہ صورت حال اور اپنی دھمکیوں کو ہوا دیتے ہوئے تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی جبکہ ایران نے داخلی امورمیں کسی بھی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے حالیہ داخلی صورتحال پر فیکٹ شیٹ جاری کر دی۔ایرانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں، فیکٹ شیٹ میں قانون کی عملداری پر زور دیا گیا ہے۔سفارتخانے نے کہا کہ ایران نے برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی کے سفیروں کو وزارت خارجہ طلب کرکے مظاہروں کے دوران مسلح فسادیوں کی ویڈیوز دکھائیں۔ایران نے کہا کہ برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی ایرانی مظاہرین کی حمایت کرنا بند کریں۔