پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کی حکومت اور عدالتی نظام پر سخت تنقید

 پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کی حکومت اور عدالتی نظام پر سخت تنقید

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شعیب شاہین نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے عدالتی نظام کو یرغمال بنا کر آئین اور قانون کی پامالی کی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ خراب کر لی ہے۔

القادر ٹرسٹ کیس پر شعیب شاہین کے تحفظات
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب شاہین نے القادر ٹرسٹ کیس میں عدالتی کارروائی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کا فیصلہ سنانے کے وقت 11 بجے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن جج صاحب صبح ساڑھے 8 بجے ہی فیصلہ تحریر کر کے روانہ ہو گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ اقدام بدنیتی پر مبنی تھا تاکہ اپیل کو مخصوص ججز کے پاس لے جایا جا سکے۔

عدالتی طریقہ کار پر اعتراضات
انہوں نے مزید کہا کہ جج ہمایوں دلاور نے 5 اگست کو ایک آرڈر کے تحت عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کرایا، جبکہ عمران خان اس دن عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتی نظام کو حکومت اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر رہی ہے اور مخالفین کو دبانے کے لیے عدلیہ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

حکومت پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات
شعیب شاہین نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے عدالتی نظام کو دباؤ کے تحت فیصلے کروانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے کچھ غلط نہیں کیا تو جوڈیشل کمیشن بنانے سے کیوں گریز کر رہی ہے؟

پارٹی کے اندرونی معاملات پر روشنی
شعیب شاہین نے پارٹی کے اندرونی معاملات پر بھی بات کی اور کہا کہ شیر افضل مروت کے ایشو پر شوکاز نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پارٹی کا داخلی مسئلہ ہے اور عمران خان پہلے ہی اس پر فیصلہ کر چکے ہیں۔

اختتامی تبصرہ
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے عدالتی نظام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس سے نہ صرف عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد متزلزل ہو رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی شبیہ بھی متاثر ہو رہی ہے۔