اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے عدالتی فیصلوں میں تاخیر اور پارٹی کے موقف پر بات چیت کی۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات جج صاحبان فیصلے لکھنے میں تاخیر کرتے ہیں، جبکہ کل ہمیں اطلاع تھی کہ فیصلہ سنایا جائے گا۔
بانی پی ٹی آئی کا موقف
بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ 9 بجے پیشی ہوگی، لیکن انہوں نے وکلاء کی آمد کا انتظار کیا۔ بانی پی ٹی آئی نے جیل میں ٹرائل کے دیر سے شروع ہونے کی روایت پر بات کی اور واضح کیا کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔
مذاکرات اور مطالبات
چیئرمین پی ٹی آئی نے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 16 جنوری کو ٹیم مذاکرات کے لیے جائے گی اور اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کرے گی۔ ان مطالبات میں جوڈیشل کمیشن کا قیام اور قیدیوں کی رہائی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کامیاب ہونے چاہئیں اور یہ عمل عوام سے پوشیدہ نہیں رکھا جائے گا۔
علی امین گنڈاپور کی آرمی چیف سے ملاقات
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے علی امین گنڈاپور کی آرمی چیف سے ملاقات کو معمول کی ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ملاقاتیں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ہوتی ہیں اور ورکنگ ریلیشن قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔