عدالت نے ایک ہفتے تک سوچنے کا وقت دیا، دونوں میاں بیوی اکٹھے رہنے پر قائل ہوگئے‘عدالتی حکمنامے پر رضامندی کے دستخط کردیئے
بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا‘ بچے پراپرٹی نہیں ہوتے، یہ مرد کا ہی کام ہے عورت کو منا کر رکھے، مردوں کا تربیتی فقدان ہے:جسٹس محسن اختر کیانی
اسلام آباد (یواین پی) اسلام اباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے تین سالہ قانونی جنگ کے بعد میاں بیوی کی صلح کرا دی، اس دوران عدالت میں جذباتی منظر دیکھا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس کے دوران عدالتی تاریخ میں نیا موڑ آیا جہاں تین سالہ قانون جنگ کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں بیوی کے درمیان صلح کرا دی، جسٹس محسن اختر کیانی کے کمرہ عدالت میں اس وقت جذباتی منظر دیکھنے کو ملا جب اسلام آباد کے رہائشی میاں بیوی اکٹھے رہنے پر راضی ہو گئے، اس ضمن میں عدالت نے گزشتہ جمعہ سے آج تک میاں بیوی کو سوچنے کا وقت دیا تھا۔بتایا گیا ہے کہ سمعیہ قمر راجہ ایڈوکیٹ و دیگر وکلا نے اس کیس کی پیروی کی، چار بچے جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت پیش ہوئے، چاروں بچے سے والدین کی کمرہ عدالت میں ملاقات کرا گئی، بچوں کو روسٹرم پر بلا کر جسٹس محسن اختر کیانی نے انٹرویو کیے، بچوں نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے اپنی ماں سے درخواست کی کہ ماما آپ گھر آجائیں، جس کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی دونوں میاں بیوی کو اکٹھے رہنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے بعد عدالتی حکم نامے پر میاں بیوی نے اکٹھے رہنے کی رضامندی کے دستخط کر دئیے۔ عدالت نے شوہر کو حکم دیا بیوی کو تاحیات الگ پورشن میں رکھیں گے، بچوں کو جسٹس محسن اختر کیانی نے تحائف بھی دئیے اور ریمارکس میں کہا بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا بچے پراپرٹی نہیں ہوتے، یہ مرد کا ہی کام ہے کہ عورت کو منا کر رکھے، مردوں کا تربیتی فقدان ہے، ایک عورت جو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کے آتی ہے اس کو محبت اور احترام ملنا چاہیے، مرد ذرا بیوی کے گھر رہ کر دیکھائے ناں، مرد کا کام ہے کہ عورت کو الگ رہائش مہیا کرے، اس کیس میں ایسے معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی سے زیادہ خاندان کا مسئلہ ہے، شوہر اپنی بیوی کو تاحیات الگ پورشن میں رکھے گا، عدالت اس کیس میں تحریری آرڈر پاس کرے گی۔معلوم ہوا ہے کہ بچوں کے انٹرویو ریکارڈنگ کرنے پر ایک شخص سے موبائل فون لے لیا گیا، سٹس محسن اختر کیانی نے ویڈیو ریکارڈ کرنے والے سے استفسار کیا کہ آپ نے کیوں ریکارڈنگ کی؟ جس پر ویڈیو ریکارڈ کرنے والے سائل نے جواب دیا کہ میں نے یہ ریکارڈنگ اس لیے کی تاکہ گھر والوں کو دیکھاؤں، میں نے گھر والوں کو بتانا تھا کہ یہاں اس قسم کے کیسز بھی ہوتے ہیں، تاریخی سماعت تھی اس سے قبل میں نے ایک کیس میں دیکھا تھا لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا تھا لیکن آج خوشی ہوئی بچوں کو آپ نے سنا۔