ویب ڈیسک: حکومت نے پٹرولیم ایکٹ 1934 میں مزید ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو پٹرولیم ترمیمی ایکٹ 2025 کے نام سے نافذ ہوگی۔ بل کو فی الفور نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔
اہم شقیں اور پابندیاں:
غیر قانونی پیداوار یا فروخت: کسی بھی پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی پیداوار، درآمد، نقل و حمل، ذخیرہ، صفائی، آمیزش یا فروخت کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔دوبارہ جرم: اگر دوبارہ یہ عمل کیا گیا تو جرمانہ بڑھ کر 50 لاکھ روپے ہوگا۔لائسنس کے بغیر سہولت: پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے یا عوام کو فروخت کرنے والی کوئی بھی سہولت متعلقہ اتھارٹی سے لائسنس کے بغیر سرمہر کر دی جائے گی۔
لائسنس منسوخی اور ضبطی:
غیر قانونی فروخت پر لائسنس فوری منسوخ ہوگا۔تمام مشینری، آلات، ساز و سامان، ذخیرہ اندوزی کرنے والے ٹینک، کنٹینرز اور پٹرولیم مصنوعات ضبط کر لی جائیں گی۔ضبطی کا عمل ڈپٹی کمشنر یا اس کے مجاز افسران کے ذریعے ہوگا، جن کا درجہ اسسٹنٹ کمشنر سے کم نہ ہو۔مالک کو ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
لائسنس کی تجدید:
لائسنس کی مدت ختم ہونے یا منسوخی کے بعد 6 ماہ کی رعایتی مدت ہوگی، جس کے دوران تجدید یا بحالی ممکن ہوگی۔اگر لائسنس یافتہ مرکز ناکام رہا تو اسے بند کر دیا جائے گا اور مالک کو 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔لائسنس کی تجدید میں ناکامی پر متعلقہ افسر تحریری وجوہات پیش کرے گا، اور اس فیصلے کے خلاف سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن سے اپیل کی جا سکتی ہے۔
اسمگل شدہ مصنوعات:
اسمگل شدہ مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی یا فروخت میں ملوث کوئی بھی جگہ یا سہولت سربمہر کی جائے گی۔تمام مشینری، آلات، ساز و سامان، ٹینک، کنٹینرز اور مصنوعات ضبط ہوں گے، اور مالک 10 کروڑ روپے جرمانے کا مستوجب ہوگا۔پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور نقل و حمل کے تمام ذرائع متعلقہ افسران کے ذریعے ضبط کیے جائیں گے۔