ملکی سلامتی، دفاع، امن و امان، اغوا ء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کسی بھی شخص کو حراست میں رکھا جا سکے گا، ان جرائم میں ملوث شخص کی حراست کی مدت آرٹیکل 10 کے تحت 3 ماہ سے بڑھائی جا سکے گی
زیر حراست شخص کے خلاف تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی، متعلقہ تحقیقاتی ٹیم ایس پی رینک کے پولیس افسر، خفیہ سول، فوجی ایجنسیوں، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں پر مشتمل ہوگی
انسداد دہشتگری ایکٹ میں پیپلزپارٹی کے نوید قمر کی ترامیم منظور کرلی گئیں جس کے مطابق ٹھوس شواہد کے بغیر کسی شخص کو زیر حراست میں نہیں لیا جا سکے گا، اس میں زیر حراست شخص کی تین ماہ سے زائد مدت کیلئے حراست کیلئے معقول جواز لازمی قرار دیا گیا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی نے روٹین کا ایجنڈا معطل کرکے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024منظور کرلیا جس کے تحت مسلح افواج یا سول آرمڈ فورسز کسی بھی شخص کو حفاظتی حراست میں رکھنے کی مجاز ہوں گی۔جے یو آئی (ف) نے ترمیمی بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانے کی ترمیم پیش کردیترمیم عالیہ کامران نے پیش کی ‘حکومت نے اس کی مخالفت کی، سپیکر نے ترمیم پر ووٹنگ کروائی جس میں صرف 41 اراکین نے اس حمایت کی۔عالیہ کامران کی ترمیم کثرت رائے سے مسترد کردی گئی جس کے بعد جے یو آئی ف ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کرگئی۔قومی اسمبلی نے انسداد دہشتگری ترمیمی بل کی منظوری دے دی، انسداد دہشتگردی ایکٹ ترمیمی بل 3سال کیلئے نافذ العمل ہوگا۔بل کے تحت سیکشن 11 فور ای کی ذیلی شق ایک میں ترمیم کر دی گئی، ترمیم کے تحت مسلح افواج یا سول آرمڈ فورسز کسی بھی شخص کو حفاظتی حراست میں رکھنے کی مجاز ہوں گی۔ملکی سلامتی، دفاع، امن و امان، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کسی بھی شخص کو حراست میں رکھا جا سکے گا، ان جرائم میں ملوث شخص کی حراست کی مدت آرٹیکل 10 کے تحت 3 ماہ سے بڑھائی جا سکے گی۔بل کے متن کے مطابق زیر حراست شخص کے خلاف تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی، متعلقہ تحقیقاتی ٹیم ایس پی رینک کے پولیس افیسر، خفیہ سول، فوجی ایجنسیوں، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں پر مشتمل ہوگی۔انسداد دہشتگری ایکٹ میں پیپلزپارٹی کے نوید قمر کی ترامیم بھی منظور کرلی گئیں۔ نوید قمر نے شق 11 فور ای کی ذیلی شق 2 میں ترمیم پیش کی، ترمیم کے تحت بل میں سے معقول شکایت، معتبر اطلاع اور معقول شبہ جیسے الفاظ کو نکال کر ٹھوس شوائد سے بدل دیا گیا۔بل کے متن کے مطابق ٹھوس شواہد کے بغیر کسی بھی شخص کو زیر حراست میں نہیں لیا جا سکے گا، اس میں زیر حراست شخص کی تین ماہ سے زائد مدت کیلئے حراست کیلئے معقول جواز لازمی قرار دیا گیا ہے۔