امریکہ نے ایران کے سمندری راستوں کی تاکہ بندی کردی ہماری بندرگاہوں کو خطرہ ہوا تو خلیج کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی:ایرانی فوج

ناکہ بندی کے علاقے میں جو جہاز بغیر اجازت داخل ہوگا یا نکلنے کی کوشش کرے گا اسے روکا جائے گا، اس کا رْخ موڑا یا قبضے میں لیا جائے گا‘ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو تباہ کر دیں گے: ٹرمپ
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو  بحری ناکہ بندی کے فیصلے کی مکمل حمایت کا یقین دلادیا‘آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکہ کا یکطرفہ اقدام ہے، چاہتے ہیں مذاکرات جاری رہیں: آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز
واشنگٹن‘تہران‘تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)امریکی فوج نے ایران کے سمندری راستوں کی ناکہ بندی شروع کردی۔ ناکہ بندی کا عارضی نفاذ جہازوں کی ایرانی پورٹس میں آمد و رفت پر ہوگا۔امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ خلیج عرب و خلیج عمان میں ایرانی پورٹس سے آنے جانے والے جہازوں پر بھی اس کا نفاذ ہوگا۔امریکی فوج کے مطابق ناکہ بند علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے یا نکلنے والے کسی بھی جہاز کو روکا، موڑا یا قبضے میں لیا جائے گا۔خبر ایجنسی کے مطابق ناکہ بندی کے علاقے میں جو جہاز بغیر اجازت داخل ہوگا یا نکلنے کی کوشش کرے گا اسے روکا جائے گا، ناکہ بندی کے علاقے میں جو جہاز داخل یا نکلنے کی کوشش کرے گا اس کا رْخ موڑا یا قبضے میں لیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو تباہ کر دیں گے۔سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی بحریہ سمندر کی تہہ میں جا چکی ہے، ایران کے 158 مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے ایران کے چند چھوٹے جہازوں کونشانہ نہیں بنایا، ان کے فاسٹ اٹیک شپس سے ہمیں زیادہ خطرہ نہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسی طریقے سے ہم سمندر میں منشیات سمگل کرنے والی کشتیوں پر کارروائی کرتے ہیں، یہ کارروائی تیز اور انتہائی سخت ہوتی ہے‘اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ایران کے بحری ناکہ بندی کے فیصلے کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس حمایت کا اعلان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پیر کے روز کابینہ اجلاس سے خطاب میں کیا۔نتین یاہو کا مزید کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان سے واپسی کے بعد ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جو بے نتیجے رہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران نے پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کے قواعد کی خلاف ورزی کی جس پر صدر ٹرمپ نے بحری ناکہ بندی کا فیصلہ کیا جو درست ہے۔ایران کے فوجی ترجمان  نے  خبردار کیا ہے کہ خلیجی بندرگاہیں یا تو سب کے لئے   ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں، بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر امریکی پابندیاں غیرقانونی ہیں اوربحری قزاقی کے مترادف ہے۔ایرانی میڈیاپورٹس کے مطابق ترجمان ایرانی افواج  کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  امریکی دھمکیوں کے بعد ایران آبنائے ہرمز پرکنٹرول کے لیے ایک مستقل نظام نافذ کرے گا، اگرایرانی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج اورخلیج عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی‘آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز  نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا کا یک طرفہ اقدام ہے، ہمیں شریک ہونے کا نہیں کہا گیا۔ انتھونی البانیز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آسٹریلیا کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں مدد کی درخواست نہیں ملی۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا فیصلہ امریکا کا ہے جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات جاری رہیں۔آسٹریلوی وزیرِاعظم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مشرقِ وسطی میں جاری جانی و مالی نقصان کو روکا جائے، ہم تجارت کو دوبارہ شروع ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں