سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) نے اپنی 2024 کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستان بھر میں بچوں پر تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات کی تشویشناک صورتحال کو اجاگر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سال 2024 میں ملک بھر میں بچوں پر جنسی زیادتی اور تشدد کے 7,608 واقعات رپورٹ ہوئے، جو کہ یومیہ اوسطاً 21 واقعات بنتے ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ کیسز صوبہ پنجاب سے رپورٹ ہوئے، جن کی تعداد 6,083 ہے۔
صوبوں کی تفصیل:
پنجاب: 6,083 کیسز، جن میں جسمانی تشدد کے 455، جنسی زیادتی کے 2,506، اغوا کے 2,189، بچوں کی سوداگری کے 457، چائلڈ لیبر کے 450 اور کم عمری کی شادی کے 26 مقدمات شامل ہیں۔ ان میں سے صرف 7 مجرموں کو جسمانی تشدد کے کیسز میں سزا ملی، جبکہ جنسی زیادتی کے 28، اغوا کے 4، بچوں کی سوداگری کے 267 اور چائلڈ لیبر کے 66 مجرموں کو سزا دی گئی۔
خیبر پختونخوا: 1,102 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں جسمانی تشدد کے 208، جنسی زیادتی کے 366، اغوا کے 93، بچوں کی سوداگری کے 6، کم عمری کی شادی کے 3 اور چائلڈ لیبر کے 426 کیسز شامل ہیں۔ ان میں سے صرف چائلڈ لیبر کے 267 مجرموں کو سزا ملی۔
سندھ: 354 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں جسمانی اور جنسی زیادتی کے 19، اغوا کے 152، بچوں کی سوداگری کے 121 اور کم عمری کی شادی کے 24 کیسز شامل ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی سزا نہیں ملی۔
بلوچستان: 69 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں جسمانی تشدد کا 1، جنسی زیادتی کے 63 اور اغوا کے 43 کیسز شامل ہیں۔ صوبے میں صرف جنسی زیادتی اور اغواء کے کیسز میں دو دو سزاؤں کی تصدیق ہوئی۔
سزا کی شرح:
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تشویش کے باوجود سزا کی شرح نہایت کم رہی۔ جسمانی اور جنسی زیادتی کے کیسز میں قومی سطح پر سزا کی شرح صرف 1 فیصد رہی، اغوا کے کیسز میں 0.2 فیصد رہی، جبکہ بچوں کی سوداگری اور چائلڈ لیبر میں نسبتاً بہتر رہی۔ بچوں کی سوداگری کی شرح 45 اور چائلڈ لیبر کی شرح 37 فیصد رہی۔ کم عمری کی شادی کے مقدمات میں کسی کو بھی سزا نہیں سنائی گئی۔
سفارشات:
ایس ایس ڈی او نے رپورٹ میں بچوں کے تحفظ کے موجودہ نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں، جن میں خصوصی بچوں کی عدالتوں کا قیام، مقدمات کی فوری سماعت، نفسیاتی، ڈیجیٹل اور معاشی استحصال کو قانون میں شامل کرنا، فرانزک تحقیقات کو مضبوط بنانا، گواہوں کے تحفظ اور ثبوت اکٹھا کرنے کے لیے خصوصی تربیت یافتہ یونٹس قائم کرنا، مجرموں کی نگرانی کے لیے مربوط ڈیٹا سسٹم قائم کرنا، چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کا قیام، اور اسکولوں میں بچوں کی حفاظت سے متعلق تربیت شامل ہیں۔ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا کہ اگر اب بھی فیصلہ کن اقدام نہ کیا گیا تو پاکستان میں ایک اور نسل بچوں کے تحفظ کے نظام کی ناکامی کا شکار ہو جائے گی۔