غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 37 فلسطینی ہلاک، 6 بھائی بھی شامل

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 37 فلسطینی ہلاک، 6 بھائی بھی شامل

غزہ: اسرائیل کی جانب سے غزہ میں وحشیانہ فضائی بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا سنگین نقصان ہو رہا ہے۔

 تازہ ترین حملوں میں 6 سگے بھائیوں سمیت کم از کم 37 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسپتالوں، بچوں اور امدادی کارکنوں کو بھی بلا امتیاز نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دیر البلح میں خونی حملہ
اتوار کے روز غزہ کے علاقے دیر البلح میں ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں اسرائیلی فضائی حملے میں خوراک تقسیم کرنے والے 6 سگے بھائی شہید ہو گئے۔ عرب میڈیا کے مطابق شہداء کی عمریں 10 سے 34 سال کے درمیان تھیں، اور یہ تمام بھائی جنگ کے آغاز سے ہی غریبوں اور متاثرین میں خوراک تقسیم کرنے میں مصروف تھے۔ان کے والد زکی ابو مہدی نے بتایا کہ ان کے بیٹوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا، وہ صرف انسانیت کی خدمت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرے بچوں کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ بھوکے لوگوں کو روٹی دے رہے تھے۔"

اسپتالوں اور طبی عملے پر حملے
اسرائیلی حملوں میں صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ طبی ادارے اور اسپتال بھی نشانے پر ہیں۔ ہفتے کے روز شمالی غزہ میں واقع ال اہلی اسپتال پر شدید بمباری کی گئی، جس سے اسپتال کے کئی بلاکس تباہ ہو گئے۔ اس حملے کے بعد مریض، ڈاکٹروں اور عملے کو اسپتال چھوڑ کر قریبی گلیوں میں پناہ لینی پڑی۔عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ WHO نے مزید انکشاف کیا کہ ایک فلسطینی بچہ طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث جاں بحق ہوا، جو اس بحران کی ایک ہولناک تصویر پیش کرتا ہے۔

شہادتوں کی مجموعی تعداد
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 50,944 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 61,700 سے تجاوز کر چکی ہے، کیونکہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور ان کی تلاش جاری ہے۔

بین الاقوامی ردعمل
سعودی عرب نے ال اہلی اسپتال پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے "بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا۔برطانوی حکومت نے بھی حملے کو "قابلِ مذمت" قرار دیا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر فضائی حملے بند کرے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ، مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اسپتالوں، بچوں، اور امدادی کارکنوں پر حملے بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔