عبدالغنی شہزاد
10 اپریل کو اسلام آباد میں منعقدہ "قومی فلسطین کانفرنس" محض ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک زبردست کوشش تھی۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان صاحب کی کاوشوں سے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور فلسطین کے مظلوم عوام، خصوصاً غزہ کے نہتے شہریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ اجتماع عالم اسلام کے لیے ایک بیداری کی علامت اور ایک نئی فکری تحریک کی بنیاد بن سکتا ہے۔آج کی دنیا میں شاید پہلی بار نسل کشی کی ہولناک کارروائیاں براہِ راست نشر ہو رہی ہیں۔ معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں پر بم برسائے جا رہے ہیں، اور عالمی ضمیر خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھا ہے۔ یہ مظالم تاریخ کو ‘‘غزہ سے پہلے’’ اور ‘‘غزہ کے بعد’’ میں تقسیم کر رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد تشکیل پانے والا عالمی نظام انصاف فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے، اور اب ایک نئے عالمی نظام، نئے ضمیر اور نئی قیادت کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے خطاب اور مفتی منیب الرحمان صاحب کی جانب سے پیش کردہ اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کے مظالم شرعی طور پر جہاد کا مکمل جواز رکھتے ہیں۔ چونکہ پاکستان سمیت کئی مسلم ریاستوں کے اسرائیل سے کوئی باقاعدہ امن معاہدے نہیں، اس لیے ان کے لیے اسرائیل کے خلاف اقدام شرعاً جائز ہے۔ البتہ یہ ذمہ داری ریاستی اداروں کی ہے، اور عام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی حکومتوں کو پرامن اور مؤثر جدو جہد کے ذریعے مظلوموں کی عملی مدد پر آمادہ کریں۔علمائے کرام نے بائیکاٹ کی مہم کی شرعی حیثیت کو بھی درست قرار دیا اور زور دیا کہ اسرائیل کی حمایت کرنے والی کمپنیوں اور ریاستوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ تاہم عوام کو ہدایت کی گئی کہ اس بائیکاٹ کے دوران کسی قسم کی تخریب کاری، تشدد یا ایسے تاجروں کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں جو ماضی میں جائز طور پر ایسی کمپنیوں سے وابستہ رہے ہوں۔ اس پہلو پر تفصیلی اجتہاد کی ضرورت ہے تاکہ مقامی کاروباری طبقے کے مسائل کا حل بھی سامنے آسکے۔ایک اور اہم سوال جس پر کانفرنس میں براہِ راست بات نہیں کی گئی، وہ ان مسلمانوں سے متعلق ہے جو غیر مسلم ریاستوں میں مقیم ہیں، بالخصوص ان ممالک میں جو اسرائیل کی کھلی حمایت کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ان مسلمانوں کی شرعی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ کیا ان کے لیے وہاں رہنا، ٹیکس دینا یا حکومتی اداروں میں خدمات انجام دینا درست ہے؟ یہ سوال امت کے علمی حلقوں میں سنجیدہ بحث کا متقاضی ہے۔
اعلامیے میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ قتال کی ابتدائی ذمہ داری ان مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے جو جغرافیائی لحاظ سے غزہ کے قریب ہیں۔ تاہم جدید دنیا میں صرف جغرافیہ کافی نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کس ملک یا فرد کی مدد زیادہ مؤثر اور فوری ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے میں جدید ذرائع، میڈیا، معیشت اور سفارتی دباؤ بھی جہاد کی نئی صورتیں بن چکی ہیں، جن پر غور اور اجتہاد ناگزیر ہو چکا ہے۔اسی تناظر میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا فلسطین اب بھی شرعی طور پر دارالاسلام ہے؟ اگر ہاں، تو کیا اس کی آزادی پوری امت مسلمہ پر فرض نہیں؟ اگر ہم نے اس فرض سے پہلوتہی کی، تو کیا ہم عنداللہ جواب دہ نہ ہوں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو کانفرنس کے بعد بھی اہل علم، اہل سیاست اور عام مسلمانوں کے درمیان بحث و تدبر کا تقاضا کرتے ہیں۔مختصر یہ کہ "قومی فلسطین کانفرنس" ایک فکری اور دینی بیداری کا سنگِ میل تھی۔ مولانا فضل الرحمان صاحب امت کی آواز بننے پر تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے تمام مکاتب فکر کو ایک نقطے پر جمع کر کے امت کے اجتماعی ضمیر کو آواز دی۔ تاہم اس آواز کو صرف جذباتی نعروں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اب وقت ہے کہ ہم ان سوالات کو زندہ رکھیں، ان پر علمی، فکری اور عملی کام کریں، تاکہ ہم تاریخ کے کٹہرے سے سرخرو ہو کر نکل سکیں۔