سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اقبالؒ کی فکرآج بھی بین الاقوامی سطح پرزندہ ہے۔اس اجتماع میںتشکیلِ جدید،جاوید نامہ،اسرارو رموز،اورشعریاتِ اقبالپرانتہائی علمی مقالات پیش کیے گئے۔یہ وہ لمحہ تھاجس میں اقبال کے شاہین کی آوازایک بارپھراجتماعی سطح پرسنی گئی۔
اس کانفرنس میں پاکستان سمیت مختلف ممالک کے اقبال شناسوں نے اقبالؒ کے کلام اورافکارپرنہ صرف تحقیق پیش کی بلکہ اسرارِ خودی(1915)اوررموز بیخودی(1918)جیسے بنیادی متون کوعصرِحاضرکے تناظرمیں سمجھنے کی نئی جہتیں بھی پیداکیں۔ خطب الہ آباد(1930)اورپسِ چہ بایدکرد(1936)کے تاریخی پس منظرکوبھی اس میں خاص اہمیت دی گئی،جن کابنیادی پیغام یہ ہے کہ مسلمان اگراپنے فکری مرکزسے جڑجائیں توزمانے کی تیزترتبدیلیاں ان کے رخ کوموڑنے کی بجائے مضبوط کردیتی ہیں۔
دنیاکے سیاسی نقشے بدلتے رہیں،طاقتیں ادلتی بدلتی رہیں،مگراقبال ؒکاشاہین آج بھی ایک زندہ اورجاویدعلامت ہے۔اقبالؒ کاپیغام وقت کے دھارے میں کبھی پرانانہیں ہوتا۔ آج جب دنیا طاقت کی دوعلامتوںعقاب اوراژدہے کے بیچ الجھی ہوئی ہے،اقبال کاشاہین قوموں کو بتاتاہے کہ اصل طاقت درحقیقت روح کی پروازمیں ہے،نہ کہ زمین کی لادین سیاست میں۔خودداری،ایمان،اخلاق،جرت اورروحانی بلندی کی علامت۔جب تک امتِ مسلمہ اس شاہین کی پروازکومحسوس نہیں کرے گی،اس کی تقدیردھندلکوں میں لپٹی رہے گی اورجب یہ پروازبیدارہوجائے گی تونہ عقاب کی جکڑباقی رہے گی نہ اژدہے کی حکمت کی ضرورت کیونکہ شاہین کی نگاہ جہاں پہنچتی ہے وہاں دنیاکے سارے سراب ماندپڑجاتے ہیں۔
یہ کانفرنس اگرچہ اپنے ایام مکمل کرچکی ہے،مگراس کی فکری چمک ابھی شفق کی طرح آسمانِ امت پرپھیل رہی ہے۔تاہم یہ عظیم الشان بین الاقوامی اجتماع اپنے اختتام پرنہیںبلکہ ایک نئی صبح کے آغازپرکھڑاہے۔یہ تین دن محض علمی گفتگونہیں تھے؛یہ تاریخ کے ساتھ ایک عہدِنوکی تجدیدتھی۔یہاں پیش کیے گئے افکارمیں وہی حرارت تھی جس نے کبھی بدرکے ریگزاروں کوطاقت بخشی، وہی بینائی تھی جس نے قسطنطنیہ کے دروازے کھولے،وہی روحانی وقارتھاجس نے غرناطہ کوصدیوں تک جِلابخشی،اوروہی اخلاقی استقامت تھی جواقبال کے شاہین کوعصرِحاضرکے عقاب واژدہے سے بلندرکھتی ہے۔
عقاب اوراژدہے کی اس بیرحم دنیامیں جہاں طاقت کے بت بلندہورہے ہیں اوراخلاق کی بنیادیں لرزرہی ہیں،دنیاکی سیاست آج بھی طاقت کے انہی بتوں کے گردگھوم رہی ہے،مگرکوئٹہ کی اس فکری بزم نے اعلان کیاکہ مسلمان کی تقدیرنہ واشنگٹن کی میزوں اور ایوانوں سے لکھی جاتی ہے،نہ بیجنگ کے نقشوں اورحکمتِ عملی سیامتِ مسلمہ کی اصل توانائی تواس کے اندرہیاس کی خودی میں،اس کی روح کے استقلال میں،اوراس کے ایمان کی وہ حرارت جسے اقبال نے شاہین کی پروازمیں مجسم دیکھا۔اس کی تقدیر تواس وقت روشن ہوتی ہے جب اس کے دل میں خودی کی آگ جاگ اٹھتی ہے،جب اس کی روح میں شاہین کی پروازتازہ ہوجاتی ہے، جب وہ اقبال کے پیام کواپنارہنمابنالیتاہے۔
حافظ طاہرصاحب اورتعمیرِنوٹرسٹ کی یہ کوشش صرف ایک علمی کارنامہ نہیں،یہ تاریخ میں گونجتاہواوہ نغمہ ہے جونسلوں کوجگاتا ہے۔انہوں نے اس کانفرنس کے ذریعے ثابت کردیاکہ
بلوچستان کی سنگلاخ وادیوں میں بھی اقبال کاپیغام اسی طرح گونجتاہے جیسے کبھی لاہورکی بادشاہی مسجد کے میناروں سے یادہلی کے کھنڈروں سے گونجاکرتاتھا۔
اوریہ سب کچھ اس لیے ممکن ہواکہ حافظ طاہرصاحب نے اپنی محبت،اپنی بصیرت اوراپنے خلوص سے اس چراغ کوروشن کیامگریہ چراغ فقط ان کے ہاتھ میں نہیں تھایہ ان کی پوری ٹیم کی شبانہ روزمحنت،اخلاص،قربانی اورعزمِ مسلسل کاثمرتھا۔ان لوگوں نے کوئٹہ کی وادیوں میں ایساعلمی مینارکھڑاکیاہے جس کی روشنی اب پورے خطے میں پھیل رہی ہے۔
یہاں پیش کیے گئے مقالات،مکالمے اورفکرکے چراغ اس حقیقت کاثبوت ہیں کہ اقبال کاشاہین آج بھی امت کی پیشانی کاستارہ بن سکتا ہیاگرہم اس کی پروازکاپاس رکھیں۔دنیابدل رہی ہے،طاقت کے مراکزتبدیل ہورہے ہیں،لیکن اقبال کاپیغام نہ کبھی پراناہوانہ کبھی ہو سکے گا۔جب تک مسلمان نوجوان اپنی خودی کوبیدارنہ کریں،اپنی فکرکوروشن نہ کریں،اوراپنے اخلاق کانگہبان نہ بنیں،دنیاکے نقشے ان کے خلاف رہیں گے۔مگرجب ایک باریہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے تونہ عقاب کے پنجے اسے روک سکتے ہیں نہ اژدہے کی فلسفیانہ پھنکاراسے دھوکہ دے سکتی ہے۔
آخر میں،دعاہے کہ حافظ طاہرصاحب کی یہ سعیِ مشکور،یہ شبانہ روزمحنت،اوریہ عشق وآگہی سے بھرپورخدمتِ اقبال،ان کیلئیدنیا وآخرت کی کامیابیوں کاذریعہ بنے۔خداکرے کہ اس کانفرنس کی روشنی پورے عالمِ اسلام میں پھیل جائے،نوجوانوں کے دلوں میں خودی کی آگ دہکادے،اوراقبال کاشاہین ایک بارپھرامت کواس کی کھوئی ہوئی صبح تک پہنچادے۔جب تک اقبال کاشاہین زندہ ہے،امت کی صبح کبھی نہیں ڈھلتی۔یہی وہ امیدہے جس پرقوموں کامستقبل کھڑاہوتاہے،اوریہی وہ عہدہے جوکوئٹہ کی اس عالمی اقبال کانفرنس نے دنیاکے سامنے ایک زندہ حقیقت کی طرح رکھ دیاہے۔اورآجکوئٹہ نے ثابت کردیاہے کہ یہ شاہین اب بھی بیدارہے،اب بھی اپنی پروازکااعلان کررہاہے، اوراب بھی نسلوں کے مقدربدل سکتاہے۔
حافظ طاہرصاحب جیسے عاشقِ رسولﷺدانشوراورتعمیرنوٹرسٹ کوئٹہ بلوچستان کے تمام اکابرین اقبالؒ کے اس پیغام کوزندہ رکھنے کی جو عملی کوشش کررہے ہیں،میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعاگوہوں کہ ان کی یہ شب وروزکی کاوشیں ان کی عقبیٰ و آخرت کی نجات کا وسیلہ بن جائیں اوریہی امیدکی وہ کرن ہے جوبتاتی ہے کہ اقبال ؒآج بھی زندہ ہیں، اور ان کاشاہین آج بھی بیداری کی نئی صبح کاپیامبربن سکتا ہے۔
یہ ٹیم اس قابل ہے کہ امتِ مسلمہ ان کا شکریہ اداکرے،انہیں خراجِ تحسین پیش کرے،اور ان کے اس کارنامے کونئے فکری احیاکا مقدمہ سمجھے۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ حافظ طاہر صاحب اوران کی پوری ٹیم کے اخلاص کوقبول فرمائے،ان کی کاوشوں کوان کیلئے دنیا و آخرت کی نجات کاوسیلہ بنائے،اوراس کانفرنس کی روشنی کوایک ایسے فکری سورج میں بدل دے جوامت کے سفرِجدیدکوسمت عطا کرے۔اللھم آمین