پاکستان ایران میں اپنے شہریوں کے اس بزدلانہ اور غیر انسانی قتل کی شدید مذمت کرتا ہے، امید ہے ایرانی حکام واقعے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے اور میتوں کی بروقت وطن واپسی یقینی بنائیں گے،دفترخارجہ

سیستان میںپاکستانیوں کا بہیمانہ قتل، بلوچ دہشت گرد تنظیمیں ملوث :سکیورٹی ذرائع پاکستان کا میتوں کی حوالگی کیلئے ایرانی حکام سے رابطہ
 قتل عام کسی عمومی واردات کا حصہ نہیں سوچا سمجھا دہشتگرد حملہ تھا اور اس طرح کے بہیمانہ قتل میں بلوچ دہشت گرد تنظیمیں ملوث ہیں،واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کالعدم بلوچ دہشتگرد تنظیموں کی ایران میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں 
تہران میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطے میں ہیں، میتیں واپس آنے میں 2 سے 3 روز لگ سکتے ہیں:چاغی ضلعی انتظامیہ، تہران میں پاکستانی سفارت خانہ اور زاہدان میں قونصل خانہ متحرک ہیں، واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کے منتظر ہیں،ترجمان دفترخارجہ
اسلام آباد (آئی ا ین پی ) سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ ایران علاقے سیستان میں 8 پاکستانیوں کے بہیمانہ قتل میں بلوچ دہشت گرد تنظیمیں ملوث ہیں۔تفصیل کے مطابق ایران میں 8 پاکستانیوں کے قتل نے کئی سوالات اٹھا دیئے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق حملہ آور رات کے وقت دکان میں داخل ہوئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ملزمان نے مقتولین کے ہاتھ پائوں باندھے اور فائرنگ کر کے قتل کر دیا، یہ قتل عام کسی عمومی واردات کا حصہ نہیں سوچا سمجھا دہشتگرد حملہ تھا اور اس طرح کے بہیمانہ قتل میں بلوچ دہشت گرد تنظیمیں ملوث ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کالعدم بلوچ دہشتگرد تنظیموں کی ایران میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں، یہ دردناک واقعہ ثابت کرتا ہے ایران دہشتگردوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے ۔

دوسراانٹرو سپرلیڈ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کا سیستان میں قتل ہونے والے 8 مزدوروں کی میتوں کی حوالگی کیلئے ایرانی حکام سے رابطہ،بلوچستان کے شہر چاغی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران میں قتل کیے گئے 8 پاکستانیوں کی میتوں کی حوالگی کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ ہوا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق تہران میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطے میں ہیں، میتیں واپس آنے میں 2 سے 3 روز لگ سکتے ہیں۔دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ میتوں کی واپسی کے لیے ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں، تہران میں پاکستانی سفارت خانہ اور زاہدان میں قونصل خانہ متحرک ہیں، واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کے منتظر ہیں۔
رابطہ
تیسرا انٹرو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دفترخارجہ نے ہفتہ کے روز ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے ضلع مہرستان میں 8 پاکستانی شہریوں کے افسوس ناک قتل پر بیان جاری کردیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ ایران کے صوبہ سیستان بلوچستا ن کا ضلع مہرستان پاک ایران سرحد سے تقریباً 230 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور ہمارے سفارتی مشن نے فوری طور پر ان افراد کی شناخت کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اورعوام اس افسوس ناک واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے سے دوچار ہیں، وزیر اعظم نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی ہدایت پر تہران میں پاکستانی سفارت خانہ اور زاہدان میں قونصل خانہ ایرانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات یقینی بنایا جا سکیں تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور جاں بحق پاکستانیوں کی میتوں کو فوری طور پر وطن واپس لایا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران میں اپنے شہریوں کے اس بزدلانہ اور غیر انسانی قتل کی شدید مذمت کرتا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ایرانی حکام واقعے کی تحقیقات میں مکمل تعاون فراہم کریں گے اور میتوں کی بروقت وطن واپسی یقینی بنائیں گے۔دفترخارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ مزید تفصیلات بشمول جاں بحق افراد کی شناخت اور واقعے کی وجوہات کے بارے میں معلومات دستیاب ہوتے ہی فراہم کر دی جائیں گی۔