دیت کی رقم میں اضافہ ، 45 ہزار گرام چاندی مقرر

 رقم ڈیڑھ سے دو کروڑ بنتی ہے ، مہنگائی کے پش نظر اضافہ ضروری تھا ، قائمہ کمیٹی
 اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کے تحت دیت (خون بہا)کی رقم میں اضا فے کی منظوری دے دی ، جس کے بعد یہ مقدار 36 ہزار گرام چاندی سے بڑھا کر 45 ہزار گرام کر دی گئی ہے۔اجلاس کی صدارت سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کی، کمیٹی نے فیملی کورٹ ترمیمی بل کی منظوری دی جبکہ سینیٹر عبدالقادر نے آئین کے آرٹیکل 27 میں ترمیم سے متعلق بل واپس لے کر آئندہ چند تجاویز کے ساتھ دوبارہ پیش کرنے کا عندیہ دیا۔ اراکین نے زور دیا کہ دیت کی رقم کا تعین کرتے وقت مہنگائی، سونے اور دیگر اقتصادی عوامل کو مدِ نظر رکھا جانا چا ہئے ، سینیٹر ثمینہ زہری نے نشاندہی کی کہ سونے کی قیمت میں مسلسل اتار چڑھائو آ رہا ہے اور مستقبل میں کرپٹو کرنسی جیسے نئے مالیاتی ذرائع بھی سامنے آ سکتے ہیں، اس لئے مناسب اضافہ ناگزیر ہے ، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ رقم عام شہریوں کے لئے ناقابل برداشت ہو سکتی ہے جبکہ سینیٹر شہادت اعوان نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے شامل کرنے کی تجویز دی،ایڈیشنل سیکر ٹر ی قانون نے وضاحت کی کہ دیت کی رقم ہر سال مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹ کی جاتی ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ سے متعلق پہلوئوں پر مزید غور ضروری ہے،نئی رقم کے مطابق 45 ہزار گرام چاندی کی مالیت تقریباً ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے بنتی ہے، جو مقتول کے ورثا کو ادا کی جائے گی ،سینیٹر فاروق نائیک کے مطابق اس اقدام کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو معقول مالی معاونت فراہم کرنا ہے، جبکہ کم آمدنی والے افراد کو قانون کی مکمل پاسداری اور احتیاط برتنے کی تلقین کی گئی ہے تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔