جج سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کا قتل‘کیس میں ملوث ملزم بری

 یہ ایک  کلاسک کیس  ہے جو ظاہر کرتا ہے کریمنل جسٹس سسٹم ناکام ہو چکا ہے:جسٹس اطہر من اللہ
اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے جج کے بیٹے کے قتل کیس میں سزائے موت اور عمر قید پانے والے ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ جاری کردیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔جمعہ کو جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سنایا۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ فیصلے کے مطابق ملزم سکندر لاشاری، جسے ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی، اور شریک ملزم عرفان عرف فہیم، جسے 25 سال قید کی سزا دی گئی تھی، دونوں کو بری کردیا گیا۔یہ کیس 2014 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج خالد شاہانی کے بیٹے حنین طارق کے قتل سے متعلق تھا۔ ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ دونوں نے ملزمان کو سزا سنائی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک ’’کلاسک کیس  ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ’’کریمنل جسٹس سسٹم ناکام ہو چکا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سنی سنائی باتوں اور اندازوں پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی