پی ٹی آئی کا شو ختم ہوچکا، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ عوام کے مفاد میں ہے، فیصل واوڈا

پی ٹی آئی کا شو ختم ہوچکا، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ عوام کے مفاد میں ہے، فیصل واوڈا

اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا سیاسی شو ختم ہوچکا ہے اور ملک میں جو کچھ آج ہورہا ہے، اس کے بارے میں وہ ایک سال پہلے ہی بتا چکے تھے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پرچم نہ اٹھانے کی بات کرنے والوں کی نسل تباہ کردیں گے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس عرصے میں صوبے میں صرف تباہی دیکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے بڑا کوئی نہیں اور خیبرپختونخوا کی حکومت دہشت گردی کا حصہ بنی ہوئی تھی۔فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبرپختونخوا کسی کی جاگیر نہیں، صوبہ نہ کسی کے باپ کا ہے اور نہ ہی کسی کی ذاتی ملکیت ہے۔ ہم سب پاکستان کے محافظ ہیں اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سپہ سالار کی قدر کرنی چاہیے اور پاکستان کی تاریخ و قربانیوں سے نئی نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے حوالے سے ابھی ان کی بات کا پہلا حصہ سامنے آیا ہے، دوسرا حصہ بھی آئے گا اور ممکن ہے کہ تیسرا حصہ بھی سامنے آئے۔ انہوں نے سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ رہنماؤں کی حالت دیکھیں، وہ کھڑے نہیں ہوسکتے اور انگریزی نہیں بول سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کے خلاف جنگ جیت سکتا ہے تو دیگر مسائل بھی حل کیے جاسکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور 180 روزہ کارکردگی کا دعویٰ

سینیٹر فیصل واوڈا نے افغان شہریوں کی موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں صوبے میں کیوں رکھا گیا تھا اور انہیں واپس بھیجا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ناکامی کی گنجائش نہیں اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ صوبے کے عوام کے مفاد میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ انتظامی سیٹ اپ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا تو اس کی جگہ نیا سیٹ اپ لایا جائے گا۔ عوام اب اسی کو قبول کریں گے جو انہیں عملی طور پر کچھ کرکے دکھائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 180 دن میں کارکردگی دکھا کر ثابت کیا جائے گا کہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔فیصل واوڈا نے قومی ترانے اور پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام ایسے عناصر کو نشانِ عبرت بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا شو ختم ہوچکا ہے اور 400 افراد کو لے جاکر طوفان برپا کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اب عوام محض نعروں کے نام پر مزید خوار نہیں ہوں گے۔

بلوچستان، دہشت گردی اور سیاسی صورت حال پر بھی اظہارِ خیال

بلوچستان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ بلوچستان حکومت کے بھی مداح نہیں، تاہم وہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیت اور کوشش ہونی چاہیے۔ انہوں نے گرفتاریوں کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں ملی بھگت سے ہوئیں اور گرفتاریوں کے لیے متعلقہ افراد خود سامنے آئے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کا کوئی صوبہ ٹوٹنے نہیں جارہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکار شہادتیں دیں اور دوسرے لوگ آرام سے زندگی گزارتے رہیں، ایسا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو نئے سرے سے فعال بنانے کے لیے اسے ری بوٹ کرنے کا آپشن بھی زیرِ غور ہے۔سیاسی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ اب کسی سیاسی جماعت کے پاس سیاسی سرمایہ (پولیٹیکل کیپیٹل) نہیں رہا۔ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی ترقی کے لیے ہمارے ساتھ ہیں۔واضح رہے کہ پریس کانفرنس کے دوران فیصل واوڈا نے خیبرپختونخوا کی سیاسی و انتظامی صورت حال، دہشت گردی کے خاتمے، ممکنہ ایمرجنسی اور ملک کے مستقبل کے سیاسی منظرنامے سے متعلق متعدد دعوے اور بیانات دیے۔ ان کے پیش کردہ مؤقف اور الزامات کی آزادانہ تصدیق اس بیان کی بنیاد پر نہیں کی گئی۔