سینیٹر فیصل واوڈا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو فوجی تحویل میں لے لیا جائے تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی۔
ان کے مطابق، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر چارج شیٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب قانون کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
9 مئی کے واقعات اور ٹرائل
فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ 9 مئی کے واقعات سے فیض حمید، پی ٹی آئی، بانی پی ٹی آئی، اور بشریٰ بی بی کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سول نافرمانی کی کال بھی ان ہی ٹرائلز سے جڑی ہوئی تھی اور یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص کا ٹرائل ہو اور اس کے ساتھیوں کا نہ ہو۔
بشریٰ بی بی پر الزام
انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی بانی پی ٹی آئی کی جان لینے پر تُلی ہوئی ہیں۔ فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے، جس کی وجہ سے انہیں پارٹی سے نکالا گیا۔
فیض حمید پر چارج شیٹ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی پاکستان آرمی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت 12 اگست 2024 کو باضابطہ طور پر شروع کی گئی تھی۔
فیصل واوڈا کا مؤقف
فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق، بانی پی ٹی آئی اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے تاکہ ملک میں انصاف کا نظام مضبوط ہو۔یہ بیانات 9 مئی کے واقعات، سیاسی بحران، اور پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔