میڈولا آبلونگاٹا - انسانی زندگی کا خودکار مرکز

احمدخان اچکزئی 
محترم قارئین، میڈولا آبلونگاٹا دماغ کا سب سے اہم اور نازک حصہ ہے جو بظاہر چھوٹا مگر کام کے اعتبار سے پوری زندگی کا ضامن ہے۔ یہ انگریزی میڈیکل اصطلاح ہے جسے اردو میں دماغ کا زیریں تنا بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ دماغ کے بالکل نچلے سرے پر واقع ہے جہاں دماغ ریڑھ کی ہڈی سے جڑتا ہے۔ اس کی لمبائی صرف 2.5 سے 3 سینٹی میٹر ہوتی ہے یعنی تقریباً آپ کی چھوٹی انگلی کے برابر اور شکل میں یہ کیلے سے مشابہہ ہے۔ لیکن اسی چھوٹے سے حصے سے زندگی کے تمام اہم اعصابی تار گزرتے ہیں۔دماغ کی مجموعی ساخت کو اگر اوپر سے نیچے دیکھا جائے تو اس کے تین بڑے حصے ہیں۔ سب سے اوپر سیریبرم ہے جسے بڑا دماغ کہتے ہیں اور یہ سوچنے سمجھنے یادداشت اور فیصلہ سازی کا مرکز ہے۔ اس کے نیچے سیری بیلم ہے یعنی چھوٹا دماغ جو جسم کے توازن اور حرکت کو کنٹرول کرتا ہے۔ سب سے نیچے برین اسٹیم ہے اور برین اسٹیم کا آخری اور سب سے اہم حصہ ہی میڈولا آبلونگاٹا ہے۔ یہ پونز کے بالکل نیچے اور اسپائنل کارڈ کے اوپر واقع ہوتا ہے۔ ڈایا گرام میں اگر دیکھا جائے تو لال رنگ سے ظاہر کیا گیا حصہ یہی ہوتا ہے۔میڈولا آبلونگاٹا کا بنیادی کام جسم کے خودکار نظام کو کنٹرول کرنا ہے یعنی وہ تمام افعال جو آپ بغیر سوچے سمجھے اور ارادے کے سرانجام دیتے ہیں۔ اسی لیے اسے جسم کا آٹو میٹک سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں چار نہایت اہم مراکز پائے جاتے ہیں۔ پہلا کارڈیک سینٹر ہے جو دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرتا ہے۔ دل کب تیز دھڑکے اور کب آہستہ ہو اس کا فیصلہ یہی مرکز کرتا ہے۔ دوسرا ریسپائریٹری سینٹر ہے جو سانس کے نظام کو چلاتا ہے۔ آپ جاگتے ہوئے تو سانس لیتے ہی ہیں لیکن سوتے ہوئے بھی آپ کا سانس جاری رہتا ہے تو وہ اسی مرکز کی بدولت ہے۔ تیسرا واسو موٹر سینٹر ہے جو خون کی نالیوں کو کھولنے اور بند کرنے کا عمل کنٹرول کرتا ہے اور اسی سے بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے۔ چوتھا ریفلیکس سینٹر ہے جو جسم کے حفاظتی ردعمل کو سنبھالتا ہے۔ اس میں چار اہم افعال شامل ہیں یعنی نگلنا الٹی آنا کھانسی اور چھینک۔ یہ چاروں افعال بظاہر معمولی لگتے ہیں لیکن زندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔میڈولا آبلونگاٹا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر اس حصے کو شدید چوٹ پہنچے تو انسان کی فوری موت واقع ہو جاتی ہے اسی لیے میڈیکل سائنس میں اسے زندگی کا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔پھانسی کے ذریعے ہونے والی موت کی اصل وجہ بھی اسی میڈولا کا ٹوٹنا ہوتی ہے جس سے دل اور سانس کا رابطہ ختم ہو جاتا ہے۔ باکسنگ کے کھیل میں جب کوئی باکسر مخالف کے جبڑے پر زور دار مکا مارتا ہے تو دراصل جھٹکا میڈولا تک پہنچتا ہے جس سے توازن بگڑتا ہے اور انسان بے ہوش ہو جاتا ہے۔ اسی طرح نشہ آور اشیاء￿  جیسے افیون ہیروئن اور دیگر منشیات سب سے پہلے اسی میڈولا پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ زیادہ مقدار میں نشہ کرنے سے ریسپائریٹری سینٹر مفلوج ہو جاتا ہے سانس بند ہو جاتی ہے اور موت واقع ہو جاتی ہے۔اس کی اہمیت کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کریں کہ آپ کا جسم ایک گھر ہے اور بڑا 
دماغ اس گھر کی لائٹ ہے جبکہ میڈولا آبلونگاٹا اس گھر کا یو پی ایس ہے۔ جب رات کو آپ سو جاتے ہیں تو لائٹ یعنی بڑا دماغ بند ہو جاتا ہے لیکن یو پی ایس کی وجہ سے پنکھا اور ضروری آلات یعنی دل کی دھڑکن اور سانس کا نظام مسلسل چلتا رہتا ہے۔ اگر یو پی ایس خراب ہو جائے تو پورے گھر کا نظام رک جاتا ہے بالکل اسی طرح اگر میڈولا کام کرنا چھوڑ دے تو زندگی کا نظام ختم ہو جاتا ہے۔مختصر یہ کہ میڈولا آبلونگاٹا سائز میں چھوٹا مگر کردار میں سب سے بڑا ہے۔ یہ وہ خاموش محافظ ہے جو پیدائش سے لے کر موت تک بغیر کسی وقفے کے آپ کے دل کو دھڑکاتا ہے آپ کے پھیپھڑوں کو سانس دیتا ہے اور آپ کے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے۔ اسی لیے دماغ کے تمام حصوں میں اسے سب سے زیادہ حساس اور حیاتیاتی مرکز قرار دیا جاتا ہے۔