آسٹریلیا کی سب سے بڑی ایئرلائن، کینٹس (Qantas)، نے تصدیق کی ہے کہ رواں سال کے بڑے سائبر حملے میں چوری ہونے والا صارفین کا ذاتی ڈیٹا اب آن لائن شیئر کر دیا گیا ہے۔
اس حملے میں تقریباً 57 لاکھ صارفین کی معلومات ہیکرز کے ہاتھ لگ گئی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ حملہ Salesforce نامی سافٹ ویئر کمپنی کے ذریعے کیا گیا، جس کے نتیجے میں Disney، Google، IKEA، Toyota، McDonald’s، Air France، اور KLM جیسی بڑی کمپنیوں کا بھی ڈیٹا چوری ہوا۔ ہیکرز ان معلومات کو تاوان کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ متاثرہ ڈیٹا میں صارفین کے نام، ای میل، فون نمبر، تاریخ پیدائش اور سفر کی تفصیلات شامل ہیں، تاہم کریڈٹ کارڈ، مالی یا پاسپورٹ کی معلومات محفوظ رہیں۔ ایئرلائن نے آسٹریلوی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کیا ہے اور نیو ساؤتھ ویلز سپریم کورٹ سے قانونی حکم بھی حاصل کیا ہے تاکہ چوری شدہ ڈیٹا کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ ماہرین نے اس قانونی کارروائی کو ناکافی قرار دیا ہے، اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مجرم دنیا کے کسی بھی حصے سے سرگرم رہ سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ ممکنہ طور پر ہیکرز گروپ Scattered Lapsus$ Hunters نے کیا ہے، جو بڑے اداروں سے تاوان وصول کرنے میں معروف ہے۔ اس واقعے کے بعد، آسٹریلیا میں ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی قوانین پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔