اورنج ٹرین ،میٹرو بس معطل رہی ، بابوصابو ،ٹھوکر سے موٹروے پر انٹری بند
112 پولیس افسر و اہلکارشدید زخمی ، کئی اہلکار لاپتا ہیں ،ڈی آئی جی آپریشنزلاہور
لاہور،راولپنڈی ، اسلام آباد(کرائم رپورٹر،خصوصی رپورٹ)لاہور ، اسلام آباد سمیت مختلف شہروں کے داخلی راستے دوسرے روز بھی بند رہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو گئے۔لاہور میں داخلہ روکنے کے لئے سگیاں پل کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا، راوی پل کی شاہدرہ جانے والی سڑک پر بھی کنٹینر لگا دیا گیا، پرانے راوی سے لاہور کی طرف آنے والی سڑک بھی بند کر دی گئی۔لاہور پریس کلب اورملحقہ علاقوں میں متعدد کنٹینرز موجود ہیں جس سے شہریوں کو ضروری کاموں کے سلسلے میں آنے جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔لاہورسے اسلام آباد موٹروے بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے، لاہور داخلے کے لیے بابوصابو اورٹھوکرنیاز بیگ سے موٹروے پر انٹری بند ہے۔اسلام آباد میں موٹروے پر آنے والے تمام راستے بند جبکہ لاہور میں اورنج لائن ٹرین ،میٹرو اور سپیڈو بس سروس دوسرے روز بھی معطل رہی۔ڈی آئی جی آپریشنزلاہور فیصل کامران نے کہا ہے مذہبی جماعت کی کارروائیوں سے بہت سے پولیس اہلکار لاپتہ ہیں جبکہ آئی جی پنجاب کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیے میں انکشاف کیا گیا لاہور میں مذہبی جماعت کے کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا ہے۔ تفصیل کے مطابق لاہور شہر میں اہم شاہراوٓں پر ٹریفک جام رہی جس سے شہری ٹریفک میں پھنس رہے۔جن شاہراوٓں پر ٹریفک جام رہی ان میں مال روڑ، فیروز پور روڈ، ملتان روڑ، کینال روڈ، داتا دربار شملہ پہاڑی، ڈیوس روڈ ، لکشمی چوک شامل ہیں۔جڑواں شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت متعدد سڑکیں بند رہیں، راولپنڈی، اسلام آباد میں میٹرو بس سروس بھی معطل ہے، فیض آباد میں تمام ہوٹل سیل کر دیئے گئے، کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔موبائل انٹرنیٹ سروس تاحال معطل ہے، ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا۔وزیرآبادشہر اور گردونواح میں مختلف مقامات پر خندقیں کھودنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے سے شہری زندگی مفلوج ہو گئی۔ جی ٹی روڈ کو مولانا ظفر علی خان بائی پاس کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا۔خانکی بیراج ٹول پلازہ پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں جبکہ سیالکوٹ ائیرپورٹ جانے والے راستے بھی مکمل بند ہیں۔گجرات میں دریائے چناب پل کے قریب خندق کھود دی گئی، دریائے چناب پل پر ٹرک اور کنٹینر لگا کر لاہور اور اسلام آباد جانے والی ٹریفک مکمل طور پر بند کر دی گئی۔جی ٹی روڈ پر کھاریاں اور سرائے عالمگیر کے مقامات پر بھی خندقیں کھود دی گئیں، خانپور ہزارہ میں سرحدی چوکی جنڈیال دوسرے روز بھی بند ہے۔پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والی جی ٹی روڈ کو ٹریلر اور کنٹینر لگاکر بند کیا گیا ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ سے لاہور جانے والے تمام راستے بند ہیں۔سیالکوٹ کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کی نفری تعینات ہے، ڈسکہ کے خارجی راستوں پر پولیس تعینات ہے، لاہور سیالکوٹ موٹر وے بند ہے۔ سادھوکی کے قریب جی ٹی روڈ پر بھی خندقیں کھود دی گئیں۔ادھر لاہور میں مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے تین کارکنوں کے قتل کا مقدمہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور رہنمائوں کے خلاف درج کر لیا گیا۔مقدمہ تھانہ نواں کوٹ میں سب انسپکٹرسجاد احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی انکے بھائی انس رضوی سمیت 4 سو کے قریب نامزد اور نامعلوم ملزم شامل ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق سعد رضوی، انس رضوی کی گولیوں سے ٹی ایل پی کے دو کارکن جاں بحق ہوئے۔ تیسرا ہلاک ہونے والا کارکن سیف اللہ ،غلام عباس کی قیادت میں آنے والے گروہ کے پتھرائو سے ہلاک ہوا۔ٹی ایل پی کے پتھرائو سے متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ایف آئی آر میں دہشتگردی قتل ،اقدام قتل اور بغاوت سمیت سنگین دفعات لگائی گئی ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنزلاہور فیصل کامران نے ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ایک مذہبی جماعت لاہور میں پرتشدداحتجاج کررہی ہے، احتجاج کے دوران پولیس افسروں اور اہلکاروں پر بہیمانہ تشدد ہوا۔ایس پیز، انسپکٹرز سمیت 112 پولیس افسر و اہلکارشدید زخمی ہوئے اور کئی اہلکار لاپتا ہیں۔ ایس پی سکیورٹی عبدالوہاب اور ایس پی ماڈل ٹاوٓن اخلاق اللہ تارڑبھی زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا ملک جب بھی ترقی کرتا ہے ایک پرتشدد گروہ سامنے آجاتا ہے، ہم نے کسی بھی موقع پر مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔ڈی آئی جی کا کہنا تھا شہریوں کی حفاظت کیلئے پولیس اپنا کام کرتی رہے گی، پرتشدد مظاہرین نے تھانوں پر بھی حملے کیے۔آئی جی پنجاب کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیے میں انکشاف کیا گیا لاہور میں مذہبی جماعت کے کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا۔اعلامیے میں کہا گیا پرتشدد اور مسلح احتجاج کا مقصد ملک کا امن و امان برباد، عوام کیلئے مشکلات کھڑی کرنا اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے کے سوا کچھ نہیں۔پولیس اہلکاروں کا اغوا اور ان پر تشدد کسی صورت فلسطین کے مسلمانوں کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ یہ سراسر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے جسکی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔آئی جی پنجاب نے کہا قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور ریاست کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔