پاکستان افغان سرزمین کے اپنے خلاف استعمال ہونے کا ثبوت دے، امیر خان متقی

 افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی، افغانستان میں مکمل امن ہے
 اور ملک کا ایک انچ بھی کسی کے قبضے میں نہیں ہے ،گذشتہ چار برسوں سے کسی دہشت گرد کا وجود نہیں
افغانستان کے لئے واہگہ بارڈر تجارت کیلئے قریب ترین راستہ ہے، ا سلئے ہم چاہتے ہیں کہ یہ سرحد کبھی بند نہ ہو
نئی دہلی (آئی این پی )افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہاہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی اور اگر پاکستان کو ایسا شبہ ہے تو اسلام آباد کو اس کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔ اتوار کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے سوال کے جواب میں امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے کسی کو خطرہ نہیں ہے اور جو لوگ ایسا کہتے ہیں، انہیں اس کا ثبوت دینا ہو گا۔پاکستان دہشت گردی کا الزام اگر افغانستان پر لگاتا ہے تو اس بات کا جواب پاکستان سے پوچھیں کیونکہ ہم تو قائل ہی نہیں ہیں کہ ہمارے ملک سے دہشت گردی ہو رہی ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ کہ افغانستان میں مکمل امن ہے اور ملک کا ایک انچ بھی کسی کے قبضے میں نہیں ہے۔امیر خان متقی نے کہا جو الزام لگاتا ہے وہ ثبوت پیش کرے۔افغان وزیر خارجہ نے ملک میں طالبان حکومت کی رٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادھر (افغان)  حکومت مضبوط ہے۔ کوئی بھی افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں گذشتہ چار برسوں سے کسی دہشت گرد کا وجود نہیں ہے۔ رواں برس آٹھ مہینوں کے دوران تو پورے افغانستان میں دہشت گردی کا ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔ امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کا واقعہ نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے امن قائم کیا ہوا ہے۔افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت پاکستان اور انڈیا کے درمیان واہگہ بارڈر کے ہمیشہ کھلا رکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لئے واہگہ بارڈر تجارت کیلئے قریب ترین راستہ ہے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ یہ سرحد کبھی بند نہ ہو۔نہوں نے پاکستان اور انڈیا پر زور دیا کہ ملکوں کے درمیان سفارتی اور عسکری کو تجارتی تعلقات سے جوڑنا نہیں چاہیے