پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ‘ سرحد پار سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائینگے:فیلڈ مارشل

وزیراعظم کی صدارت میں پارلیمانی رہنمائوں کا اجلاس ایران‘خلیجی ممالک میں کشیدگی کم کرانے کافیصلہ
ّٓ ان کیمرہ اجلاس میں شرکا ء  نے ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مضبوط عزم کا اعادہ کیا‘سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا‘پی ٹی آئی کی عدم شرکت پر اظہار مایوسی
وزیراعظم کا لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ‘ ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال   قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس ‘ لبنان کی خودمختاری اور سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا
پاکستان اور افغانستان میں امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کر دیں:فیلڈ مارشل کی جنوبی وزیرستان کے دورہ کے موقع پر گفتگو
اسلام آباد (آئی این پی‘آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک)  وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنمائوں و نمائندگان کا ان کیمرہ اہم اجلاس   ہوا ۔وفاقی دارالحکومت میں اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمانی رہنمائوں کو پاک افغان صورتحال اور مشرق وسطی کی قیادت سے رابطوں پر بھی اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ حکام نے ایران اسرائیل  تنازع کے بعد ملکی خارجہ پالیسی سے متعلق بریفنگ دی، شرکا کو بتایا گیا  پاکستان نے تنازع کی شدت میں کمی لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی،بریفنگ، نائب وزیراعظم  نے خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ اپنے دوطرفہ رابطوں سے متعلق آگاہ کیا۔ شرکا کو مغربی سرحد پر افغان طالبان رجیم کے خلاف جاری آپریشن پر بھی بریفنگ دی گئی۔حکام نے کہا  پاکستان نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اور ایران پر حملوں کی فوری مذمت کی، بریفنگ، شرکا کو ایران کی جانب سے خلیجی  اور عرب ممالک پر حملوں کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی پاکستان کی اولین ترجیح ہے‘علامیہ کے مطابق اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔شرکاء نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا۔شرکاء نے خطے میں امن کے لئے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا، انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں۔ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام شرکاء نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔شرکاء نے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہا اور انکا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس میں شرکاء نے اپوزیشن لیڈرز اور تحریک انصاف کی قیادت کی عدم شرکت پر مایوسی کا اظہار کیا اورکہا کہ ایک بار پھر تحریک انصاف نے سیاست کو قومی مفاد پرترجیح دی ہے جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ بہتر تھا اگر اپوزیشن لیڈرز اور تحریک انصاف کی بھی نمائندگی بھی ہوتی۔دریں اثناء شہباز شریف نے لبنان کے وزیراعظم نواف سلام سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ وزیراعظم نے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس اور لبنان کی خودمختاری اور سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ گفتگو کے دوران پاکستان اور لبنان کے وزرائے اعظم نے خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنمائوں نے ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور فوری جنگ بندی اور ڈی اسکیلشن پر زور دیا۔لبنان سے اظہارِ یکجہتی پر لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔علاوہ ازیںفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا، انہیں مغربی سرحد اور آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، آپریشن غضب للحق میں تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا گیا، فیلڈ مارشل نے مادر وطن کے دفاع میں لازوال قربانیاں دینے والے شہداء￿  کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یادگار شہدا پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر فیلڈ مارشل نے کہا  شہدا کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد ہیں۔ فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے اور سرحد پار سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا  دونوں فریقوں کے درمیان امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کر دیں۔