18ویںترمیم یا این ایف سی میں مشاورت کے بغیر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ‘خارجی عناصر کوپہلے بھی منہ توڑ جواب دیا ‘ اب بھی دیں گے:شہبازشریف

27 ویں  ترمیم  قومی اسمبلی سے بھی منظور(آئینی عدالت سے بے نظیر کی روح کو بہت تسکین ملے گی: وزیراعظم)
قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کی تمام 59 شقیں دو تہائی اکثریت سے منظور ‘ترمیم کی حمایت میں 233  جبکہ مخالفت میں صرف 4 ووٹ آئے، جمعیت علمائے اسلام نے ترمیم کی مخالفت کی‘اپوزیشن کا واک آئوٹ
 چاہتے ہیں افغانستان امن عمل میں شریک ہو ‘ دہشت گردوں کو لگام دے،ہم  ان  کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں،دہشت گردوں کو افغانستان اور بھارت کی حمایت حاصل ہے‘افغانی  مہمان نوازی کا جو صلہ دے رہے ہیں وہ دنیا دیکھ رہی ہے
 ملک کو آگے لے کر جانے کیلئے گالم گلوچ کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا‘کالاباغ ڈیم بڑا شاندار معاشی منصوبہ ہے مگر ہماری قومی یکجہتی سے اوپر کوئی چیز نہیں، ڈیم سے وفاق کو نقصان پہنچے تو میں اس کے حق میں نہیں:قومی اسمبلی میں خطاب
پہلا انٹرو
اسلام آباد (آئی این پی) 27ویں آئینی ترمیم  قومی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی گئی اپوزیشن نے واک آئوٹ کیا۔بدھ کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں  میں27ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا عمل مکمل کیاگیا، شق وار ووٹنگ کے مرحلے میں اپوزیشن نے واک آٹ کر دیا۔وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں27ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ تحریک کے حق میں 231 ووٹ پڑے، 4ممبران نے تحریک کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ایوان میں آئینی ترمیمی بل کی شق وار منظوری کے عمل کے دوران اپوزیشن نے واک آٹ کیا، نئے آئینی ترمیمی بل میں 8 شقیں تبدیل کی گئیں، وزیر قانون نے27 ویں ترمیم میں 8 مختلف شقیں متعارف کرائیں۔ترمیم کی تمام شقیں دو تہائی اکثریت سے منظور ہو گئیں۔ 

دوسرا انٹرو
 اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے  وانا میں دہشت گردی کی کوشش کرنے والے خوارج میں بدقسمتی سے افغانستان سے لوگ بھی شامل تھے، دہشت گردوں کو پہلے بھی منہ توڑ جواب دیا اب بھی دیں گے، چاہتے ہیں افغانستان امن عمل میں شریک ہو اور دہشت گردوں کو لگام دے،ہم آپ کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار ہیں، پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیں گے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج اس ایوان نے بڑی یکجہتی کا اظہار کیا، 27ویں ترمیم پر بھرپور مشاورت ہوئی اور آج یہ آئین کا حصہ بن گئی‘ آئینی عدالتوں کے قیام سے بے نظیر کی روح آج بہت خوش ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ جو چیز وفاق کو کمزور کرے تو وہ کتنی ہی اچھی ہو وہ پاکستان کے لیے مفید نہیں، کالاباغ ڈیم بڑا شاندار معاشی منصوبہ ہے مگر ہماری قومی یکجہتی سے اوپر کوئی چیز نہیں، اگر کالا باغ ڈیم سے وفاق کو نقصان پہنچے تو میں اس کے حق میں نہیں۔انہوںنے کہا کہ  اتفاق رائے کے بغیر 18ویں ترمیم میں تبدیلی نہیں ہوگی۔ شہباز شریف نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں واضح لکھا ہے کہ آئینی عدالت بنائیں گے، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کا مشکور ہوں، چیف جسٹس سے درخواست کی ریونیو کے کیسز جلد حل ہونے چاہئیں، اللہ کا شکر ہے ریونیو سے متعلق کیسز میرٹ پر حل ہوئے، چیف جسٹس ہی سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور  لا اینڈ جسٹس کمیشن کی سربراہی کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد کچہری میں اندوہناک واقعہ پیش آیا، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہمارے ساتھ جھوٹے وعدے کئے جائیں، کل بھی کہا تھا دہشت گردی میں بھارتی ہاتھ ملوث ہے، چاہتے ہیں امن قائم ہو، حملہ آوروں میں افغان بھی شامل تھے، افغان وزیر خارجہ بھارت گئے اور پھر دوسرے دورے کیے یہ پیغامات اچھی طرح سمجھ آرہے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کو چار دن کے معرکے میں شکست فاش دی، نریندر مودی بے بسی کا شکار تھا اور اب بھی ہے، دہشت گردی کے خلاف ہم سب ایک ہیں، پاکستان خطے کی ترقی اور خوشحالی کا گہوارا بنے گا، ملک کو آگے لے کر جانے کے لیے گالم گلوچ کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا، ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہمیں کام کرنا ہے، آئینی عدالت کا قیام میثاق جمہوریت کا عروج ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھرپور معاونت کی، جسٹس یحییٰ آفریدی کا ریکارڈ بہت شاندار ہے، تعاون کرنے پر جسٹس یحییٰ آفریدی کا مشکور ہوں۔