روس کا جدید ترین سرمت میزائل کا کامیاب تجربہ، امریکہ اور یورپ میں تشویش کی لہر

روس کا جدید ترین سرمت میزائل کا کامیاب تجربہ، امریکہ اور یورپ میں تشویش کی لہر

روس نے اپنے جدید ترین بین البراعظمی جوہری میزائل ’سرمت‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جسے روسی صدر پیوٹن نے دنیا کا سب سے طاقتور جوہری میزائل قرار دیا ہے۔ 
خبر کے مطابق، روسی اسٹریٹیجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکائیف نے صدر پیوٹن کو میزائل کے تجربے کے بارے میں بریفنگ دی۔ پیوٹن کا کہنا ہے کہ روس سال کے آخر تک سرمت میزائل کو اپنی فوجی سروس میں شامل کرلے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ میزائل ہزاروں میل دور، امریکہ اور یورپ میں اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ 
پیوٹن نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں بتایا کہ سرمت میزائل کے وار ہیڈ کی طاقت مغربی ممالک کے کسی بھی مساوی نظام سے چار گنا زیادہ ہے اور اس کی رینج 35,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ میزائل جدید دفاعی نظاموں کو بھی چکما دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے روس کی دفاعی اور اسٹریٹیجک طاقت میں اضافہ ہوگا۔ سرگئی کاراکائیف نے کہا کہ سرمت میزائل سسٹم سے لیس لانچرز روسی فوج کی جنگی صلاحیت کو مضبوط بنائیں گے اور اس کی اسٹریٹیجک دفاعی مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ میزائل عالمی طاقتوں کے درمیان اسلحہ کی دوڑ کو تیز کر سکتا ہے، خاص طور پر جب کہ دنیا بھر میں جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔