مچھروں کے کاٹنے سے سالانہ 7 لاکھ 60 ہزار اموات : ماہرین
پیرس (خصوصی رپورٹ) دنیا میں سب سے زیادہ انسانی ہلاکتوں کا سبب شیر، سانپ یا مکڑیاں نہیں بلکہ مچھر ہیں، جو ہر سال تقریباً 7 لاکھ 60 ہزار افراد کی جان لیتے ہیں۔ تحقیقی ویب سائٹ ‘‘ آور ورلڈ اِن ڈیٹا’’ کے مطابق مچھر ملیریا، ڈینگی، زرد بخار، چکن گونیا اور زیکا سمیت کئی مہلک بیماریوں کے پھیلا ئو میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اور دنیا بھر میں متعدی امراض کے تقریباً 17 فیصد کیسز انہی سے منسلک ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے عالمی درجہ حرارت کے باعث مچھر اب نئے علاقوں تک پھیل رہے ہیں، جس سے مستقبل میں عالمی صحت کے مزید بحران پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق دنیا میں تقریباً 3 ہزار 500 اقسام کے مچھر موجود ہیں، تاہم صرف 100 اقسام انسانوں کو کاٹتی ہیں جبکہ صرف 5 اقسام تقریباً 95 فیصد انفیکشنز کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہیں۔لیورپول اسکول آف ٹراپیکل میڈیسن کی ماہر ہیلری رینسن کے مطابق ان چند خطرناک اقسام کے خاتمے سے انسانی جانوں اور معیشت کو پہنچنے والے بڑے نقصان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مچھر ماحولیات، خوراکی زنجیر اور پودوں کی زیرگی میں بھی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے مکمل خاتمے کے ماحولیاتی اثرات پر مزید تحقیق ضروری ہے۔سائنس دان مچھروں کی افزائش اور بیماری پھیلانے کی صلاحیت روکنے کیلئے نئی جینیاتی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہے ہیں۔ ‘‘جین ڈرائیو’’ نامی طریقہ کار کے تحت مچھروں کی