گھروں کو مسمار، متاثرین کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سنی جائے، سلمان اکرم راجہ اور شعیب شاہین
اسلام آباد(آئی این پی )پی ٹی آئی رہنمائو ں نے کہا ہے کہ ملک میں غریب کو بے گھر اور امیر کو امیر تر بنانے کا منصوبہ جاری ہے۔ سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ اور شعیب شاہین نے سید پور ویلج کا دورہ کیا، جہاں ا نہوں نے متاثرین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرین کی نمائندگی کرنے آئے ۔ علاقے کا جائزہ لینے کے بعد افسوسناک صورتحال سامنے آئی ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو لوگ صدیوں سے یہاں آباد ہیں، ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے ۔ مقامی آبادی کو بے گھر کرکے کسی اور کو جگہ الاٹ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی غریب نظر آتا ہے اسے بے گھر کیا جا رہا ہے ۔ پورے ملک میں غریبوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ جاری ہے جبکہ امیر کو مزید امیر بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ سندھ اور چولستان بھی گئے اور وہاں کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اسی طرح سید پور ویلج کے باسیوں کے ساتھ بھی کھڑے ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ متاثرین کو بے گھر کرنے کے بعد نہ رہائش دی جا رہی ہے اور نہ ہی کسی قسم کا معاوضہ دیا جا رہا ہے، اس معاملے پر قانونی جنگ لڑی جائے گی۔شعیب شاہین نے کہا کہ سید پور ایک ماڈل ویلج ہے ، اسے ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو ہٹانا ہے تو پہلے اسے معاوضہ اداکیا جائے کیونکہ سی ڈی اے کے مطابق پلاٹ اور متبادل جگہ دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم کالونی کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے جبکہ ملپور میں بھی گائوں کے گائوں گرا دئیے گئے۔شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ایک ہی شہر میں دو قانون نہیں ہونے چاہییں۔ کانسٹی ٹیوشن ایونیو میں راتوں رات آپریشن کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جدی پشتی لوگ آباد ہیں اور اگر اشرافیہ کو بسانے کے لیے مقامی آبادی کو ہٹایا جا رہا ہے تو یہ ظلم اور زیادتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مقامی لوگوں کی آواز بنے گی ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرین کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سنی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ جن کے پاس چھت نہیں انہیں رہائش فراہم کی جائے۔ شعیب شاہین نے کہا کہ اس معاملے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی آواز اٹھائی جائے گی۔اس موقع پر متاثرہ شہریوں نے کہا کہ 5 ہزار 200 کنال زمین کے اب بھی بقایاجات موجود ہیں ۔ انہیں ہمیشہ ماڈل ویلج بنا کر دینے کے وعدے کیے جاتے رہے، مگر آج تک یہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ ابھی تک کسی جگہ سے اس علاقے کو گرانے کی اجازت نہیں ملی۔