اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے رؤف حسن کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کو غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔جسٹس انعام امین منہاس کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں عدالت نے رؤف حسن کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا۔ عدالت نے رؤف حسن کو بیرون ملک سفر کی اجازت کے لیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی، اور کہا کہ ٹرائل کورٹ جلد قانون کے مطابق اس درخواست پر فیصلہ کرے۔رؤف حسن کے وکیل نے دلائل دیے کہ وہ کینسر کے مریض ہیں اور ہر چھ ماہ بعد برطانیہ میں چیک اپ کرانے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ محض ایک مقدمے کے تحت کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالنا بلا جواز ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے 24 جولائی 2024 کو ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی، اور 26 اگست 2024 کو ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے اس پر عمل درآمد کیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پٹیشنر ضمانت پر ہیں اور وفاقی حکومت سے ان پر سفری پابندیاں عائد کرنے کی منظوری نہیں لی گئی۔ پاسپورٹ رولز کے تحت ملک میں داخلے اور روانگی کو ریگولیٹ کرنے کی اتھارٹی وفاقی حکومت کے پاس ہے۔