سعودی کرنسی کے پہلے خطاط عبدالرزاق خوجہ کا انتقال

سعودی کرنسی کے پہلے خطاط عبدالرزاق خوجہ کا انتقال

عبدالرزاق خوجہ سعودی عرب کے ایک عظیم خطاط اور قلمکار تھے، جنہوں نے سعودی کرنسی کی خطاطی میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔

ان کی وفات بدھ کی صبح 95 برس کی عمر میں جدہ میں ہوئی، اور ان کا انتقال سعودی عرب میں ثقافتی اور آرٹ کی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔عبدالرزاق خوجہ کو ابتدائی عمر سے ہی خطاطی کا شوق تھا، اور انہوں نے اس فن میں اپنی مہارت کو تیزی سے نکھارا۔ 1375 ہجری میں سعودی مانیٹری ایجنسی میں کرنسی کی خطاطی کے کام کا آغاز کیا، جو کہ ایک اہم سنگ میل تھا۔ اس کے بعد، 1381 ہجری میں انہوں نے سعودی عرب کے مشہور عربی جریدے "الندوہ" میں ہیڈ لائنز کی خطاطی بھی کی۔ان کی خطاطی سعودی عرب کے مختلف بادشاہوں کے ادوار میں سامنے آئی۔ شاہ فیصل، شاہ خالد، اور شاہ فہد کے دور میں انہوں نے کرنسی کے نوٹوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ عبدالرزاق خوجہ کی خطاطی ایک ریال سے لے کر 500 ریال تک کے نوٹوں پر موجود تھی، جو کہ ان کی خطاطی کی اہمیت اور تاثیر کو ظاہر کرتی ہے۔اس کے علاوہ، عبدالرزاق خوجہ نے صحافتی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں اور سعودی عرب کے کئی معروف جرائد میں ان کا کام شامل رہا۔ ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے 2019 میں انہیں مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد کی طرف سے بہترین خطاطی کے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ان کی وفات سعودی عرب کی ثقافتی وراثت کے لیے ایک بہت بڑا خلا چھوڑ گئی ہے، اور ان کا کام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔