ٹرین دہشت گردی4 ایف سی اہلکار‘21مسافر شہید‘33 دہشت گرد ہلاک

بازیابی کے آپریشن میں پاک فوج، ایئر فورس، ایف سی اور ایس ایس جی کے جوانوں نے حصہ لیا، دہشت گردوں نے تین ٹولیوں میں مسافروں کو بٹھایا ہوا تھا
 آپریشن شروع کرنے سے پہلے ہی دہشت گرد21معصوم مسافروں کی جانیں لے چکے تھے‘دہشت گرد افغانستان سے رابطے میں تھے:ڈی جی آئی ایس پی آر

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینٹ جنرل احمد شریف چودھری نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں  گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے بولان میں آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے‘ٹرین پر حملے کرنے والے تمام33دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے‘آپریشن کے دوران4ایف سی اہلکار شہید ہوگئے جبکہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے ہی دہشت گرد21معصوم مسافروں کی جانیں لے چکے تھے‘بچوں اور خواتین کی وجہ سے  کلیئرنیس آپریشن میں انتہائی اختیاط اور مہارت  کا مظاہرہ کیا گیا اور معصوم جانیں بچائی گئیں‘تمام یرغمال مسافروں کو مرحلہ وار بازیاب کرایا گیا‘لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا  11 مارچ کو دہشت گردوں نے بولان میں ریلوے ٹریک کو نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس میں موجود مسافروں کو یرغمال بنایا، دہشت گرد دوران آپریشن افغانستان میں رابطے میں تھے، دہشت گرد مسافروں کو شیلڈ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔انہوں نے بتایا  بازیابی کا آپریشن فوری طور پر شروع کیا گیا، بازیابی کے آپریشن میں پاک فوج، ایئر فورس، ایف سی اور ایس ایس جی کے جوانوں نے حصہ لیا، دہشت گردوں نے تین ٹولیوں میں مسافروں کو بٹھایا ہوا تھا، مرحلہ وار یرغمالیوں کو بازیاب کرایا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا  علاقہ دشوار گزار ہے اور آبادی سے دور ہے، بیرونی آقاؤں کی ایما اور سہولت کاری کے ذریعے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، دہشت گردوں نے یرغمالیوں کو انسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کیا، دہشت گردوں کا دین اسلام اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ہم نے بغیر نقصان کے یرغمالیوں کو فائنل آپریشن میں بازیاب کرایا، فائنل کلیئرنس آپریشن میں کسی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، بڑی احتیاط اور پروفیشنل طریقے سے آپریشن کیا گیا۔