حملہ آوروں نے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو کچھ نہیں کہا، دھماکہ کے بعد شدید فائرنگ ہوئی ‘ ہم پیدل وہاں سے نکلے ‘2 گھنٹے چلتے رہے
دہشتگرد ٹرین میں موجود لوگوں کو نیچے اترنے کا کہہ رہے تھے لیکن لوگ نیچے نہیں اتر رہے تھے:بازیاب ہونے والوں کی میڈیا سے گفتگو
کوئٹہ (یواین پی) جعفر ایکسپریس حملے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے حملہ آور 100 سے زائد مسلح افراد تھے جنہوں نے مسافروں کے شناختی کارڈز چیک کیے۔ بحفاظت واپس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسافروں نے بتایا کہ گاڑی میں بیٹھے تھے کہ دھماکہ ہوا، دھماکے کے بعد کچھ معلوم نہیں کیا ہوا، دھماکہ کے بعد شدید فائرنگ ہوئی، کس نے دھماکہ کیا اور فائرنگ کی ہمیں کچھ معلوم نہیں، حملہ آور 100 سے زائد مسلح افراد تھے جنہوں نے مسافروں کے شناختی کارڈز چیک کیے، حملہ آوروں نے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو کچھ نہیں کہا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہم نے قیامت کا منظر دیکھا اور حملے کے بعد ہرطرف افراتفری دیکھی، مسلح افراد نے ہمیں کہا کہ باہرنکلو، وہاں ہم نے زخمی افراد کو دیکھا اور ہم وہاں سے پیدل ہی نکلے، دھماکے کے بعد 2 گھنٹے پیدل سفر کیا، سب لوگ بہت خوفزدہ تھے، گھنٹوں پیدل چلنے کے بعد پنیر ریلوے سٹیشن پہنچنے کے بعد وہاں پر فوج کی جانب سے ہماری خدمت کی گئی اور ہمیں یہاں پہنچادیا گیا۔ایک عینی شاہد نے بتایا
دہشت گرد ٹرین میں موجود لوگوں کو نیچے اترنے کا کہہ رہے تھے لیکن لوگ ٹرین سے نیچے نہیں اتر رہے تھے۔۔ میں جب ٹرین سے نیچے اترا تودہشتگردوں نے مجھ سمیت میرے بچوں اور میری اہلیہ کو چھوڑ دیااور ہمیں جانے کا کہتے ہوئے کہا پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔بازیاب ہونے والے ایک اورمسافر نے ٹرین پر ہونے والے حملے کے بارے میں بتایا کہ حملے کے وقت ہر طرف چیخ و پکار تھی۔ ہم سب جان بچانے کیلئے ٹرین کے فرش پر لیٹ گئے تھے اور پھر اسی دوران فائرنگ کے ساتھ دھماکے ہوئے۔مسافر ٹرین کے سانحے میں بازیابہ ہونے والے بزرگ مسافر کایہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے کہنے پر بچوں کو اترنے کا کہا کیونکہ اندر میں بھی مرنا تھا اور باہر بھی۔لیکن جب ہم ٹرین سے اترے توانہوں نے ہم سب کو چھوڑ دیا