گزشتہ چار برس کے دوران مکمل اور زیرِ تکمیل تمام ترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ بھی تحقیقات میں شامل ہے
ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشن اور دیگر محکموں کے بعض کرپٹ افسران کے گرد گھیرا تنگ کرلیا گیا،جلد ایکشن ہوگا
اسلام آباد(آن لائن)سرکاری محکموں کے ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کا انکشاف ہونے کے بعد متعدد محکمے تحقیقات کی زد میں آگئے ہیں اورکمشنر، ڈپٹی کمشنر سمیت انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے بعد اہم تحقیقات شروع کردی گئی۔ذرائع کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران مکمل اور زیرِ تکمیل تمام ترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ بھی تحقیقات میں شامل کئے گئے ہیں۔ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشن اور دیگر محکموں کے بعض کرپٹ افسران کے گرد گھیرا تنگ کرلیا گیا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ مال، ریونیو، تحصیل دفاتر اور پٹوار خانوں کے ریکارڈ کی چھان بین بھی شروع کی گئی ہے،راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کے ڈیزائن میں مبینہ ردوبدل کی تحقیقات مزید تیز کر دی گئیں، 150 سالہ پرانے نشاط سینیما اراضی اسکینڈل پہلے ہی اینٹی کرپشن کے سپرد کیا گیا۔ذرائع کے مطابق نشاط سینیما اراضی کیس میں اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کرکے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے، گرفتار افراد میں ایک پراپرٹی ڈیلر اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دو افسران شامل ہیں، ایکسائز افسر وسیم احمد اور انسپکٹر فضیل بھٹی پر سرکاری ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کا الزام ہے۔ ذرائع کے مطابق مقدمے میں نامزد مبینہ بینیفشری ملک عارف بھی اینٹی کرپشن کی تحویل میں ہے، ملک عارف نے مبینہ طور پر میونسپل کارپوریشن کی ملی بھگت سے قیمتی سرکاری اراضی پر قبضہ کیا تھا، جعلی دستاویزات کے ذریعے سینیما کی دو کنال اراضی منتقل کیے جانے کی تحقیقات جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن نے میونسپل کارپوریشن کے مزید افسران کو بھی شاملِ تفتیش کرنے کی سفارش کر دی ہے، اعلیٰ انتظامی افسران کی تبدیلی کے بعد نچلی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا امکان ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب محمد رضا سرور نے راولپنڈی کا دورہ کرکے مختلف محکموں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔