عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں لیکن کسی نے نہیں سنی، ہم پرالزام لگایا جاتا ہے انتشاری اوراحتجاجی سیاست کرتے ہیں،آئینی اورقانونی راستے اختیار کرنے کے بعد احتجاجی راستہ اپناتے ہیں
سندھیوں کا دل بڑا ہے جو مہمانوں کو عزت دیتے ہیں لیکن سندھ کی حکومت نے مہمانوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا، سندھ حکومت نے سندھی اجرک اور ٹوپی کی بے حرمتی کی ہے
وکلاء تحریک شروع کریں میں آئین و قانون کی بالادستی کے لئے کھڑا رہوں گا، وکلاء پر گولی چلانے سے پہلے مجھ پر چلانا پڑے گی:سندھ ہائیکورٹ بار سے خطاب ‘مزار قائد پر حاضری
کراچی(آئی این پی )وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہاہے احتجاجی سیاست کا چیمپئن ہوں، ہم پرالزام لگایا جاتا ہے کہ انتشاری اوراحتجاجی سیاست کرتے ہیں، میں اپنے لیڈر عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں لیکن کسی نے نہیں سنی، جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے، ہم آئینی اورقانونی راستے اختیار کرنے کے بعد احتجاجی راستہ اپناتے ہیں۔ا ن خیالات کااظہار انہوں نے سندھ ہائیکورٹ بار کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا ۔ وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے، میرا لیڈر جیل میں ہے اور وہ پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے، چیف جسٹس بھی ملاقات کو تیار نہیں اور نہ لیٹر کا جواب دیا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ احتجاجی سیاست میں ہم تب جاتے ہیں جب کوئی راستہ نہیں بچتا جبکہ آئین و قانون اسکی اجازت دیتا ہے۔ وزیر اعلی بنا تو وزیر اعلی پنجاب اور چیف جسٹس کو خط لکھا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز حکم دیتے ہیں کہ میں عمران خان سے مل سکتا ہوں، تین ججز نے یہ حکم دیا لیکن اس حکم کو ردی کی ٹوکری میں ایک جیل سپرنٹنڈنٹ پھینک دیتا ہے۔ یہ میری بی عزتی نہیں بلکہ عدلیہ اور وکلا پیشے کی بے توقیری ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، اداروں کا نہیں پورے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے، انصاف برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے اثاثے بیچ رہے ہیں انہوں نے پی آئی اے کو او ایل ایکس پر بیچ دیا ہے، یہ جس قسم کی ترامیم کر رہے ہیں انہوں نے انصاف برائے فروخت بھی رکھ دیا ہے یہ ملک کے اداروں کا نقصان کر رہے ہیں۔قبل ازیں مزارِ قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ مزار قائد پر ہم حاضر ہوئے ہیں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جس مقصد کے لیے پاکستان بنایا تھا وہ مقصد بدقسمتی سے حاصل نہیں ہو سکا ہم اسی کی جدوجہد کر رہے ہیں، میں نے اپنے کمنٹس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے جو کہا تھا کہ ادارے اور لوگ ملک کی بہتری کے لیے کام کریں اور تمام معاملات پاکستان کے لیے ہی ہونے چاہئیں یہ ہی لکھا ہے۔