رافیل کمپنی نے پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے گرانے کی تصدیق کردی دفتر خارجہ

مستقبل میں بھی کسی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا،پاکستان عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحدی نقشے کے مطابق اپنی حدود کا تحفظ کرے گا 
بھارت سے ساولکوٹ ڈیم پر تفصیلات طلب کر لی ہیں، پانی کے حق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، مسائل پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں
 داعش کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود   اور پاکستان کیخلاف کارروائیوں میں تعاون کر رہا ہے،افغانستان میں داعش کی موجودگی کے ثبوت دنیا کو دیدیئے
بھارتی ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کے واقعات   افسوسناک، بھارتی حکومت  ان واقعات کی  آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرے :پریس بریفنگ
  اسلام آباد(آئی این پی )ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے  رافیل طیارے بنانے والی کمپنی نے پاکستان کی جانب سے بھارتی رافیل طیارے گرانے کی تصدیق کردی ہے،پاکستان عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحدی نقشے کے مطابق اپنی حدود کا تحفظ کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا، بھارت سے ساولکوٹ ڈیم پر تفصیلات طلب کر لی ہیں، پانی کے حق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، مسائل پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں،  دونوں فریقین کے لئے سندھ طاس معاہدے کی مکمل پابندی لازمی ہے،افغانستان میں داعش کی موجودگی کے ثبوت دنیا کو دیدیئے۔ان خیالات کااظہار  انہوں نے نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران کیا  ۔ترجمان دفتر خارجہ   نے  تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رافیل کمپنی نے پاکستان کی جانب سے بھارتی رافیل طیارے گرائے جانے کی معلومات کی توثیق کی ہے۔طاہر اندرابی نے کہا کہ مستقبل میں بھی کسی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی قانونی ٹیم نے عالمی ثالثی عدالت میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سماعت میں حصہ لیا، جبکہ بھارت اس سماعت میں شریک نہیں ہوا۔ پاکستان نے دوبارہ اس بات کی تجدید کی کہ دونوں فریقین کے لیے سندھ طاس معاہدے کی مکمل پابندی لازمی ہے۔   طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارت کے ساولکوٹ ڈیم کا معاملہ اٹھایا ہے، پاکستان کے انڈس واٹرکمشنرنے بھارتی واٹرکمشنر کو خط لکھا ہے، پاکستان نے نئے ڈیم کی تمام تفصیلات طلب کی ہیں، سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان تمام تفصیلات لینے کاحق رکھتا ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت پر زور دیتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے، پاکستان پرامن طریقے سے تمام مسائل حل کرنا چاہتا ہے، پاکستان اپنے لوگوں کے پانی کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔