نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے سہ ملکی سیریز کے تیسرے میچ میں پاکستانی بولنگ لائن ہوم گراؤنڈ پر بھی ناکام رہی، جس کے نتیجے میں جنوبی افریقی بیٹرز نے 350 رنز کا بڑا اسکور کھڑا کر دیا۔
بولرز کی کارکردگی
پاکستان کے فاسٹ بولنگ اٹیک کی قیادت کرنے والے شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کو جنوبی افریقی بیٹرز نے خوب نشانہ بنایا۔ دونوں نے اپنے 20 اوورز میں مجموعی طور پر 134 رنز دیے اور صرف 3 وکٹیں حاصل کر سکے۔اسپنرز بھی کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے۔ابرار احمد نے 10 اوورز میں 63 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔پارٹ ٹائم اسپنرز آغا سلمان اور خوشدل شاہ نے 12 اوورز میں 72 رنز دیے، ان کی اکانومی بھی 6 رنز فی اوور رہی۔
سب سے مہنگے بولر محمد حسنین
محمد حسنین نے 8 اوورز میں 72 رنز لٹائے، 9 کی اکانومی سے بولنگ کی اور کوئی وکٹ بھی حاصل نہ کر سکے۔
آخری 10 اوورز میں تباہی
پاکستانی بولرز نے آخری 10 اوورز میں 110 رنز دے دیے اور محض ایک وکٹ حاصل کر سکے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ڈیتھ اوورز میں بولرز کی کارکردگی ناقص رہی۔
شائقین کرکٹ کی مایوسی
پاکستانی بولرز کی ناقص کارکردگی پر شائقین کرکٹ نے شدید مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب پاکستانی بولنگ لائن اتنی کمزور نظر آرہی ہے۔ کچھ شائقین نے بھارتی بولنگ اٹیک سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پاس زیادہ مضبوط بولنگ یونٹ ہے، جو پریشان کن ہے۔
ٹیم مینجمنٹ کے لیے لمحہ فکریہ
پاکستان کی بولنگ ہمیشہ سے اس کی طاقت رہی ہے، مگر اس میچ میں کارکردگی نے واضح کیا کہ ٹیم کو بولنگ میں بہتری کی ضرورت ہے، خاص طور پر ڈیتھ اوورز میں۔ چیمپئنز ٹرافی سے قبل بولنگ میں بہتری نہ آئی تو پاکستان کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔