مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، جنوبی افریقا کی ٹیم 329 رنز پر ڈھیر

مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، جنوبی افریقا کی ٹیم 329 رنز پر ڈھیر

کیپ ٹاؤن: آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے درمیان سیریز کے فیصلہ کن تیسرے ٹیسٹ کے پہلے روز سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے میں آیا، جہاں جنوبی افریقا نے ابتدائی برتری حاصل کرنے کے باوجود اپنی پہلی اننگز میں 329 رنز بنائے۔

 آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں اور میزبان ٹیم کی بیٹنگ لائن کو بڑا نقصان پہنچایا۔نیو لینڈز میں کھیلے جانے والے میچ میں آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں جنوبی افریقی اوپنرز ایڈن مارکرام اور مارکس ایکرمین نے پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بولرز کو مشکلات میں ڈال دیا۔

اوپنرز کی 158 رنز کی شراکت
جنوبی افریقا کے اوپنرز نے پہلی وکٹ کے لیے 158 رنز جوڑ کر ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔ مارکس ایکرمین نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 94 گیندوں پر 95 رنز بنائے، جبکہ ایڈن مارکرام نے 78 رنز کی اننگز کھیلی۔دونوں بلے باز سنچریاں مکمل نہ کرسکے، تاہم ان کی شراکت نے جنوبی افریقا کو بڑی اننگز کی بنیاد فراہم کردی تھی۔ اس مرحلے پر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ میزبان ٹیم پہلے روز بھاری اسکور بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

آسٹریلوی بولرز کی شاندار واپسی
اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد جنوبی افریقی بیٹنگ لائن دباؤ کا شکار ہوگئی۔ ٹیم نے چائے کے وقفے کے آس پاس صرف 29 رنز کے اضافے سے پانچ وکٹیں گنوا دیں، جس سے میچ کی صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی۔ڈیوڈ بیڈنگھم نے 50 رنز بنا کر مزاحمت کی، جبکہ مارکو جینسن نے بھی 50 رنز کی اننگز کھیلی۔ ریان رکلٹن نے 45 رنز بنائے۔ جینسن اور رکلٹن نے ساتویں وکٹ کے لیے 95 رنز کی اہم شراکت قائم کرکے ٹیم کو مکمل تباہی سے بچانے کی کوشش کی۔

مچل اسٹارک کی چھ وکٹیں
نئی گیند ملنے کے بعد مچل اسٹارک نے اپنی رفتار اور لائن و لینتھ سے جنوبی افریقی بلے بازوں کو پریشان کردیا۔ انہوں نے آخری چار میں سے تین وکٹیں حاصل کرتے ہوئے اپنی وکٹوں کی تعداد چھ تک پہنچائی۔اسٹارک نے 72 رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور آسٹریلیا کو میچ میں مضبوط واپسی دلائی۔ نیتھن لائن نے دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ کوپر کونولی نے بھی ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پہلی وکٹ حاصل کی۔

فیصلہ کن ٹیسٹ میں مقابلہ دلچسپ ہوگیا
جنوبی افریقا کا 329 رنز پر آل آؤٹ ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آسٹریلوی بولرز نے ابتدائی مشکلات کے بعد کس طرح مقابلے میں واپسی کی۔ اب آسٹریلیا کی پہلی اننگز کی کارکردگی میچ کے اگلے مرحلے میں اہم ہوگی، جبکہ جنوبی افریقی ٹیم اپنے بولرز سے بھی اسی نوعیت کی کارکردگی کی توقع کرے گی۔