علمی، ادبی، معاشرتی، سیاسی، سماجی، تفریحی، آفاتی اورثقافتی خدمات کو سراہنے کے لیے پوری دنیا میں اس کا دن منایا جاتا ہے
لاہور(سلیمان اعوان)ریڈیو کے معروف آر جے غلام علی جاویدنے ساتھ ریڈیو کے عالمی دن کے حوالے سے انٹرویو میں کہا ہیشاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کو اپنی زندگی میں ریڈیو کی لت نہ لگی ہو،یہ ادبی دنیا کاوہ بے تاج بادشاہ ہے جس کے مقابلے والا آج تک کوئی معرض وجود میں آیا ہی نہیں،ریڈیوالیکٹرانک میڈیا کی آمد سے پہلے مزاح کا اکلوتا سہارا تصور کیا جاتا تھا۔شہروں کے شور سے لیکر صحرائوںکی وسعتوں تک ریڈیو کی آواز گونجتی ہے،ریڈیو کی جھنکار ہی فضائوں میں رس گھولتی ہے،کھیتوں کے سبزے میں رنگ بھرتی ہے، کسانوں کے دلوں کاساز ہے،فوجیوں کی تسکین کا سُر ہے، فنکاروں کا فن ہے۔ ریڈیو رات کی تنہائی میںغمگسارہے ۔یہ معلومات کا ذریعہ ہے ، سفر کا ساتھی ہے، ثقافت کی ردا اور گائیک کی صدا ہے۔ریڈیو سستا ترین ذریعہ ابلاغ اور معلومات کی فراہمی کی بابت ایک مخلص دوست کی مانند ہے۔اس کی علمی، ادبی، معاشرتی، سیاسی، سماجی، تفریحی، آفاتی اورثقافتی خدمات کو سراہنے کے لیے پوری دنیا میں اس کا دن منایا جاتا ہے اور مختلف پلیٹ فارمز پر اس کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے تاکہ پوری دنیا میں لوگوں کو ریڈیو کی اہمیت و افادیت کا عکس نظر آئے۔ریڈیوعالمی دن منانے کا مقصددنیا والوں کو یہ شعور دینا ہے کہ ریڈیو نہ صرف علمی میدانوں میں خدمات سرانجام دے رہا ہے بل کہ ادبی حلقوں کی بھی زینت ہے۔قیام پاکستان سے آج تک ریڈیو پاکستان نے ملکی حالات پر پوری نظر رکھی ہے اور تسلی بخش آگاہی فراہم کی ہے۔ریڈیو پاکستان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ملک کے ہر طبقے کے لیے نشریات فراہم کرتا ہے اورعلاقائی زبانوں میںبھی معلومات فراہم کرتا ہے ۔ریڈیو نے مذہبی رواداری کو فروغ دیا،کھیل کے میدانوں میں تجزیوں اور تبصروں میں پیش پیش رہا ہے، ریڈیو پاکستان ، چین پاکستان ثقافتی فروغ کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔