سیاسی کمیٹی کی از سر نو تشکیل،23اہم رہنما شامل ، علی امین گنڈاپور، مراد سعید، شہباز گل اور علی محمد خان ا ٓئوٹ

تحریک انصاف مالی بحران کا شکار 
مرکزی سیکرٹریٹ میں ملازمین گزشتہ کئی ماہ کی بنیادی تنخواہوں سے محروم ہیں،ارکان پارلیمنٹ اور ایم پی ایز سے ماہانہ فنڈز دیں ،امید ہے تمام ارکان تین دنوں کے اندر اندر فوری رقم جمع کرائیں گے:شمیم نقوی کا خط 
اسلام آباد (بیورو رپورٹ ، مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مالی بحران کا شکار ہوگئی۔پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل فردوس شمیم نقوی نے مالی بحران کے حوالے سے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو خط لکھ دیا۔فردوس شمیم نقوی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پارٹی چلانے کے لیے ہر پارلیمنٹرین اپنی تنخواہ کا 10 فیصد پارٹی فنڈ میں دے گا۔خط میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ ہر ایم این اے، سینیٹراور ایم پی اے ماہانہ 50 ہزار روپے پارٹی فنڈ میں جمع کرے گا۔،مرکزی سیکرٹریٹ میں ملازمین گزشتہ کئی ماہ کی بنیادی تنخواہوں سے محروم ہیںفردوس شمیم نقوی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی سرگرمیوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر رقم بھیجی جائے، امید ہے اراکین اسمبلی 72 گھنٹوں کے اندر پیسے بھیج دیں گے۔دوسری طرف تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سیاسی کمیٹی کی ازسرِ نو تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں 23 اہم رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ علی امین گنڈاپور، مراد سعید، شہباز گل اور علی محمد خان کو کمیٹی سے آؤٹ کردیا گیا۔سیاسی کمیٹی میں چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ فردوس شمیم نقوی، شیخ وقاص اکرم، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، علامہ راجہ ناصرعباس شامل ہیں۔اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، شبلی فراز، معین قریشی، ملک احمد خان بھچر، سجاد برکی، عالیہ حمزہ، جنید اکبر،حلیم عادل شیخ اور داؤد کاکڑ کمیٹی کا حصہ ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے خالد خورشید اور سردار قیوم نیازی اسد قیصر، عامر ڈوگر، فوزیہ ارشد، کنول شوزب، لال چند ملہی بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی پارٹی کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم ہوگا، پارلیمانی پارٹیوں کے لئے فالو کی جانے والی پالیسیز بھی کمیٹی مرتب کرے گی۔