دہرے ٹیکس معاہدوں کی متوازن تشریح کی جائے:جسٹس منصور

سپریم کورٹ کے سینئر جج منصورعلی شاہ نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کافیصلہ کالعدم قرار دیدیا

اسلام آباد( آن لائن )سپریم کورٹ کے سینئر جج منصورعلی شاہ نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کافیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ٹیکس تنازع پر نظرثانی کیس کے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ دہرے ٹیکسوں کے معاہدوں کی اس طرح سے متوازن تشریح کی جائے جس سے معاشی نمو کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی بنیادکو بھی تحفظ حاصل ہوسکے۔8 صفحات پر مشتمل نظرثانی فیصلہ تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس سید منصور علی شاہ نے تحریر کیا۔فیصلے میں مزیدکہاگیاہے کہ  ڈبل ٹیکسیشن کے معاہدے بین الاقوامی اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتے ہیں جس کا مقصد ممالک میں سرمایہ کاری میں ا?سانیاں میسر ا?نا اوردہرے ٹیکس سے بچنا ہے جو عالمی تجارت میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔فیصلے میں جرمن  ٹیکس ماہر کلاؤس واجل کا حوالہ دیا گیا جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ معاہدے قوموں کے درمیان پل کے طور پر کام کرتے ہیں، ان بیان الاقوامی معاہدوں کا مقصد ٹیکس  تنازعات کو روکنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون کی حوصلہ افزائی  کرنا ہیان  معاہدوں کی سختی سے تشریح نہیں کی جانی چاہئے بلکہ ان سے  عالمی سطح پر مساوی معاشی ترقی کے وسیع تر مقصد کی عکاسی ہونی چاہئے۔ عدالت نے جسٹس ریٹائرڈ قاضی فائز عیسیٰ کے تحریر کردہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کمپنی کی اپیلیں منظور کرلیں، سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلے کی توثیق کی تھی جبکہ اصل کیس میں جسٹس منصور شاہ کا اقلیتی فیصلہ تھا۔