خاکِ وطن کاخوابِ رفتہ

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
جب تقدیرِامم کاقلم لوحِ ازل پرتھرتھراتاہے تووقت کی صراحی سے ایسے لمحے ٹپکتے ہیں جن میں قوموں کی حیاتِ نوکے دیے روشن ہوتے ہیں۔14اگست بھی ایک ایساہی روح پرور،تاریخ سازلمحہ ہے جس نے برِصغیرکے مظلوم مسلمانوں کومحکومی کی زنجیروں سے نکال کرآزادی کی نکہت بھری فضامیں سانس لینے کااختیاربخشا۔یہ دن صرف ایک تاریخ کا نہیں، یہ اذانِ بلال، شمشیرِ خالد، عدلِ عمر،حکمتِ علی اورعلمِ حسن کاتجدیدی مظہرہے۔یہ دن ہمیں یاددلاتاہے کہ ہم نے مٹی کانہیں،لالہ لااللہ کاسوداکیاتھا۔یہ وطن ریگزاروں میں بہتے سرخ لہوکی داستان ہے،یہ خاک وہ مقدس امانت ہے جسے کلمہ گوشہیدوں نے اپنے خون سے سینچا۔
یہ توزمانہ کے نشیب وفرازہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ (آلِ عمران :140)
اگرآج پاکستان نہ ہوتا،توشایددہلی،لکھن،بنارس اورحیدرآبادکے گلی کوچوں میں مسلمانوں کامقدرماضی کے مزاروں سے زیادہ نہ ہوتا۔ ہم مسجدکے میناروں سے اللہ اکبرکی صدا بلندکرنے کیلئے بھی اجازت کے طلبگارہوتے،اورحجاب واذان محض کتابوں کے قصے بن جاتے۔یہ یومِ آزادی اس نظریے کی فتح کادن ہے جس کے معماروں نے دنیاکوبتایاکہ قومیں رنگ،نسل یاخطے کی بنیادپرنہیں،عقیدے اورایمان کی بنیادپربنتی ہیں۔دوقومی نظریہ اگرنہ ہوتاتوآج نہ تومدینے کی محبت میں سرشارنوجوان ہوتے،نہ کشمیرکی آزادی کے نعرے۔
سواے اہلِ وطن!آج کے دن یادرکھوکہ یہ آزادی ہمیں طشت میں رکھ کرپیش نہیں کی گئی،یہ قربانیوں کے سمندرسے نکلاہواوہ گوہر ہے جس پرہمارے اسلاف کی سسکیاں،ماں کی دعائیں،اورشہیدوں کالہوثبت ہے۔یہ دن تجدیدِعہدکاہے،یہ دن ہے اپنی مٹی،اپنی ملت، اپنی تہذیب،اپنی دین ودانش اوراپنے نصب العین سے وفاکادن۔
اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں(فصلت:33)
قرآن مجید کی یہ آیت یومِ آزادی کے مہینے اگست کیلئے فکری اورمعنوی روشنی کی مانندہے۔اگست کامہینہ آزادی کاجشن مناتے ہوئے ہمیں تاریخی لمحے پرغورکرناچاہیے ’’اگر پاکستان نہ بنتا،توکیاہوتی مسلمانوں کی صورتِ حال؟‘‘یہ سلسلہ فکرہمیں دوقومی نظریہ کے منطقی اورتہذیبی اثبات تک لے جاتاہے،اوراسی کوموضوع بناتے ہوئے آئندہ نکات کی روشنی میں ہرپہلو کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ مبارک دن یومِ آزادی پاکستان کامہینہ اگست،مسلمان خطہ ِہندمیں ایک نئے فکری استقلال کی نویدلیکرآیا۔اگربرصغیرمیں پاکستان نہ بنتاتواس وقت کے ہندوستانی مسلمانوں کی حیثیت کیاہوتی؟آزادی کی مبارک شمع نہ ہوتی توشایدان کی معاشرتی،سیاسی اورتہذیبی زندگی ایک انہونی دھندمیں گم رہتی۔
وقت نے دوقومی نظریہ کوواضح کردیاکہ ہندواورمسلمان دومختلف تہذیب،تاریخ اورمذہبی بیک گراونڈکے حامل ہیں۔اگرآزادی نہ ملتی، توموجودہ مسلم اکثریت شاہِ ہندکے زیرِتسلط ایک سیاسی اقلیت میں تبدیل ہوتی۔دوقومی نظریہ نے ثابت کیاکہ مسلمانوں کی الگ تہذیب، شناخت اورسیاسی خودمختاری کے بغیرایک باوقارمعاشرہ قائم نہیں ہوسکتا۔ایسے میں مسلمانوں کی زندگی روزبروزایک بارودبھرے فوجی،مذہبی اورثقافتی دباؤکاشکاررہتی۔انسانی حقوق،آزادتقریراورمذہبی اظہارمحدودہوکرمرجعیت کاخطرہ لاحق ہوتی۔یعنی آزادی نہ ہوتی تومسلمانوں کی تاریخی کشادگی اورسیاسی اہمیت بجائے سکڑنے کے،زوال پذیرہوتی۔
اگرپاکستان نہ ہوتاتوہندوستان میں مسلمانوں کی تہذیبی اورمذہبی تشخص خطرے میں رہتا،وہ سیاسی اقلیت کی شکل پاگئے ہوتے جس پر اکثراوقات ناقابل برداشت دباؤہوتا۔ معاشرتی زندگی میں ہندواکثریت کی سیاسی غلبہ کی وجہ سے مذہبی آزادی محدودرہتی۔حقوقِ انسانی میں تعصب،تشکیلِ حکومت اوردستورسازی میں عدم شمولیت کے باعث مسلمان سماجی تنزلی کاشکارہوتے۔ہرلمحے ان کے عقائد و ادب کی خودمختاری خطرے میں رہتی،سیاسی خودداری نہ ملتی توتدریجی بغاوت یااندرونی خلفشارجنم لے سکتاتھا۔یہی وجہ ہے کہ برصغیرمیں الگ وطن کی تشکیل ایک نئی تہذیبی شدت اورسیاسی بسیطی نتیجہ تھی،نہ صرف جغرافیائی بلکہ فکری آزادی کاآئینہ دار۔
مئی2025میں غیرتِ رنگِ فکرکی مانندبرصغیرمیں معرکہ حق کامنظرآیا۔پاکستان اوربھارت کے بیچ شدیدعسکری تصادم ہوا،جس کے دوران بھارت نے آپریشن سندورکے تحت پاکستان میں میزائل اورڈرون حملے کیے،جس سے پاکستان کی بھرپورجوابی کارروائی سامنے آئی۔پاکستانی شاہینوں نے اپنے تیارکردہ جے تھنڈر17اورچینی ساخت جے10 طیارے استعمال کرتے ہوئے بھارتی اڈوں اوران کے متعددجہازاڑاکررکھ دیئے۔ پہلی بارفرانسیسی رافیل کے جیتے ہوئے مبینہ تکبرکاپردہ چاک ہوا،اوررافیل کے ساتھ دیگر طیاروں کو خاک چاٹنی پڑی اورہندوستان کے مختلف مقامات پران جہازوں کے بکھرے اورپاش پاش ہونے کی تصاویرساری دنیامیں وائرل ہوگئیں۔مودی سرکار کوفوری طورپر پاکستانی طاقتِ دفاع کازبردست احساس ہوگیا۔
فوری طورپربھارت اوراسرائیل نے اپنی تباہی کاواویلا کرتے ہوئے امریکابہادرکوسیزفائرکیلئے دہائی دیناشروع کردی جس نے جنگ کے آغازمیں بڑے کھلنڈرانہ اورمزاحیہ اندازکامظاہرہ کیاتھا۔دراصل اسے یہی پیغام دیاگیاتھا کہ پاکستان کے ساتھ یہ معرکہ صرف چند گھنٹوں میں فتح کے ترانوں کے ساتھ اختتام پذیرہوجائے گااورپاکستان سرخم کرکے تمام احکام کی تعمیل بجالائے گالیکن یہاں صورتِ حال بالکل اس کے برعکس نتائج کے ساتھ جب سامنے آئی توٹرمپ نے درمیان میں کودکرجنگ بندی کے اعلان کاسہرااپنے سر پر سجا لیاجس کاوہ اب تک35مرتبہ ذکرکرچکے ہیں۔مودی حکام نے اپنی ہزیمت اوررسوائی کوچھپانے کیلئے اعلان کیاکہ کسی نے بھی بھارت سے کارروائی روکنے کونہیں کہالیکن ایک باربھی ٹرمپ کے بیان کی نفی کرنے کی ہمت نہیں کرپائے۔بلا شبہ اب تک گودی میڈیااورمغربی میڈیاکازبانی محاذ آپس میں گتھم گتھاہے،لیکن پاکستان کی قوتِ دفاع کے شاندار مظاہرے سے خطے میں بھارت کی توقیر کوایساجھنجھوڑاہے کہ عالمی دفاعی ماہرین بھی پاکستان کی کامیابی پرمبہوت ہیں اورانڈیاکاساراغرورتواسی دن خاک میں مل گیاتھا جب فرانسیسی رافیل کمپنی کے سربراہ نے عالمی میڈیاکے سامنے اپنے رافیل طیاروں کی تباہی کوتسلیم کرتے ہوئے یہ بیان دیاکہ ہم نے طیارے فروخت کئے ہیں،لڑنے کاحوصلہ نہیں ۔
مودی کی حکومت نے مدلل اندازمیں اصرارکہ آپریشن جاری ہے اوربھارتی حکومت نے اپنے اندرونی حلقوں میں کمزوری محسوس کی ہے ۔اپوزیشن رہنماؤں نے دھمکی دی کہ اس غیرملکی عسکری اتحادخصوصا چین کے ساتھ ممکنہ خطرہ بڑھ گیاہے،لہذاخطے میں ممکنہ عسکری تصادم کے خطرے کم نہیں ہوئے۔اس واقعے کے بعد،سرحدی تنازعات میں جنگ کے خطرات فی الحال مکمل طور پرٹل گئے ہیں یانہیں،یہ واضح نہیں کہاجاسکتا۔دونوں جانب عسکری صورتحال کشیدہ ہے،اورعالمی سطح پربھی امن کی کوششوں کے باوجودمسئلہ مکمل طورپرحل نہیں ہوا۔
پاکستان نے2024-25کے دفاعی بجٹ میں 55۔2 ٹریلین روپے(9بلین ڈالرز)مختص کیے گئے،جو20فیصداضافہ ظاہرکرتاہے۔اس میں چلانے کاخرچ تقریبا704 ارب(29 %اضافہ)،ملازمین کے اخراجات846ارب،اورپنشن 742ارب شامل ہیں جبکہ بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں تقریبا5۔9اضافہ کرتے ہوئے اسے قریباً ًً$78.7بلین قراردیا،جی ڈی پی کاتقریبا9۔1بڑھادیاگویاپاکستان سے نوگنا زیادہ بجٹ فوج کیلئے مختص کیالیکن حالیہ پاک بھارت جنگ میں بری طرح رسوائی اورسبکی کے نتائج ساری دنیانے دیکھ لئے۔
پاکستان کابیرونی قرضہ تقریبا$87.4بلین تک پہنچ چکاہے،جس کی وجہ سے جی ڈی پی کاتقریبا1.9حصہ صرف قرض کی قسطوں پراٹھ رہاہے،چین اس کاسب سے بڑاقرض دہندہ ہے۔پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ7بلین ڈالر پروگرام کے تحت اقتصادی استحکام کے اقدامات کررہاہے۔ملک کی اقتصادی ترقی کے اہداف4.2ہیں،جبکہ2024 ۔ 25میں ترقی صرف2.7رہی،افراط زر4.7پرآنے کا امکان ہے۔باوجودمالی مشکلات کے،احتیاطی طورپرعالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کوقدرکی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اوران کارویہ بھی تبدیل ہوگیاہے۔
پاکستان نے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے تحت معیشت میں استحکام لانے کی کوشش کی ہے۔عمومی بجٹ کو17.57ٹریلین روپے($2بلین)تک کم کیا گیالیکن دفاعی بجٹ
 میں اضافہ جاری رکھاگیا۔عالمی  مالیاتی اداروں نے ابھی کچھ احتیاط سے تبدیلی محسوس کی ہے اگرچہ رسمی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی بہتری آرہی ہے جس کی بناپرمالی استحکام کی جانب مثبت اشارے ملنے لگے ہیں،اور ترامیم تسلیم کی جارہی ہیں۔
پاک چین کے’’آئل ویدرفرینڈشپ‘‘کے ناتے عسکری تعاون طویل عرصے سے رواں دواں ہے۔سی پیک،مشترکہ دفاعی پیداوار،جدیدساز وسامان،انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ مشقیں اس اتحادکوتقویت عطاکرتی ہیں۔(جاری ہیں)