نواحی علاقے زیتون میں گھر پر اسرائیلی حملے میں پورا خاندان شہید ، شہید ہونے والوں میں ماں باپ اور ان کے 6 بچے شامل ہیں
ؔغزہ (آئی این پی )غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں، تازہ کارروائی میں مزید 46 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے الجزیرہ کے پانچ صحافیوں کی تدفین کر دی گئی۔ اسرائیلی حملے کی دنیا بھر میں مذمت کی جاری ہے ،پاکستان، قطر، برطانیہ، ایران، اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، رپورٹرز وِد آئوٹ بارڈرز اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے اسے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ قطری نشریاتی ادارے کے مطابق طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کی تازہ جارحانہ کارروائیوںمی میں کم از کم 46 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 6 امداد کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں۔ غزہ کے نواحی علاقے زیتون میں ایک گھر پر اسرائیلی حملے میں پورا خاندان شہید ہو گیا، شہید ہونے والوں میں ماں باپ اور ان کے 6 بچے شامل ہیں۔الاقصی اسپتال نے بتایا کہ وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح کے جنوب اور مشرق میں اسرائیلی افواج نے 4 فلسطینیوں کو شہید کیا۔فلسطینی ریڈ کراس نے کہا کہ غزہ شہر کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی حملے میں مزید 3 شہری شہید اور دیگر زخمی ہوئے۔ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے صحافیوں کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کردی گئی ہے ۔ شہدا میں انس الشریف، محمد قریقہ، کیمرہ مین ابراہیم ظاہر، مومن علیوا اور معاون محمد نوفل شامل ہیں۔اسرائیل کے دانستہ حملے پر عالمی سطح پر شدید مذمت جاری ہے۔یورپی یونین، چین، جرمنی اور اقوام متحدہ نے اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔قطری میڈیا الجزیرہ کے صحافیوں کی غزہ میں شہادت پر دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔دمشق، راملہ، ہیگ اور بغداد میں عوام و صحافیوں نے اسرائیلی جارحیت اور صحافیوں کے قتل کے خلاف آواز بلند کی ہے۔آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ پینی وونگ اور برطانیہ کے مشرق وسطی کے وزیر ہیماش فالکنر نے کہا ہے کہ صحافیوں کو دنیا میں کہیں بھی محفوظ طریقے سے کام کرنے کا حق حاصل ہے اور اسرائیل کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے۔۔رپورٹرز ود آٹ بارڈرز کے مطابق 2023 سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں تقریبا 200 صحافی مارے جاچکے ہیں۔