تل ابیب،انقرہ (آئی این پی )اسرائیلی وزیر اعظم بینجمین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں بڑی کامیابیوں کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب خود بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہے، خطے کے چھ ممالک نے اسرائیل کو گھیرنے اور ختم کرنے کی کوشش کی،ترک صدر ایران کی سہولت کاری کر رہے ہیں،ایران اور اس کے اتحادیوں سے لڑائی جاری رکھیں گے۔بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری مہم میں اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو کچل دیا گیا ہے اور اب ایران شدید دبائو میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم اب تک حاصل ہونے والی کامیابیاں تاریخی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران نے اسرائیل کو مختلف محاذوں سے گھیرنے کی کوشش کی، جن میں غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، شام میں بشار الاسد کی حکومت، عراق میں ملیشیائیں اور یمن میں حوثی شامل ہیں۔نیتن یاہو نے کہا ایران خود اسرائیل کو ختم کرنا چاہتا تھا، لیکن اب صورتحال الٹ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیں مٹانے کی دھمکی دی تھی، اور اب وہ خود زندہ رہنے کے لیے لڑ رہے ہیں یہ جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات ہوئے، جو اتوار کو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔دریں اثنا نیتن یاہو نے اسلامی ممالک کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے چھ ممالک نے اسرائیل کو گھیرنے اور ختم کرنے کی کوشش کی۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں سے لڑائی جاری رکھیں گے۔ نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب ایردوان پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ترک صدر کردوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔دوسری جانب ترک صدارتی دفتر کے کمیونیکیشن امور کے سر برا ہ برہا نیتن دوران نے کہا کہ نیتن یاہو کی غزہ میں نسل کشی اور خطے کے7 ملکوں پر حملے جاری ہیں، نیتن یاہو ترک صدر کو نشانہ بنانے کی خوش فہمی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو مجرم ہے جن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں، نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے لئے خطے کو کشیدگی اور تصادم میں دھکیلنا چاہتا ہے ، نیتن یاہوکو بالآخر انسانیت کیخلاف جرائم کا ذمے دار ٹھہرایا جائے گا۔