مرغیوں کی تیزی سے بڑھتی فارمنگ ، انسانی صحت کیلئے خطرے کی گھنٹی

 اینٹی بایوٹکس کا زیادہ استعمال ، مضرصحت جراثیم کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے
 اینٹی بایوٹکس بیماری کے علاج کے بجائے پہلے سے بچا ئو کیلئے استعمال کی جا رہی تھیں
جراثیم چکن کے گوشت کے ذریعے انسانوں تک پہنچ گئے  تو علاج مشکل ہوسکتا ہے ،برطانوی اخبار 
لاہور(آئی این پی )پاکستان میں میں مرغیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فارمنگ نے انسانی صحت کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے بعض بڑے مرغی فارموں میں مرغیوں کی بڑی تعداد اور اینٹی بایوٹکس کے زیادہ استعمال کے باعث ایسے جراثیم کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے جو عام دوائوں کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتے ہیں۔پاکستان کے 100 مرغی فارموں پر ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریبا 66 فیصد اینٹی بایوٹکس بیماری کے علاج کے بجائے پہلے سے بچا ئوکے لئے استعمال کی جا رہی تھیں، جبکہ بعض انتہائی اہم ادویات بھی استعمال ہو رہی تھیں۔ماہرین کے مطابق اصل تشویش مرغی کھانے سے نہیں بلکہ غیرضروری اینٹی بایوٹکس، ناقص صفائی اور کمزور حفاظتی انتظامات سے ہے۔اگر ایسے جراثیم چکن کے گوشت یا ماحول کے ذریعے انسانوں تک پہنچ گئے اور عام دوائیں ان پر اثر نہ کر سکیں تو معمولی انفیکشن کا علاج بھی مشکل ہوسکتا ہے۔