پنجاب میں حالیہ بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔
پنجاب پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 45 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 97 تک پہنچ چکی ہے۔سیلاب نے صوبے کے مختلف اضلاع کو بری طرح متاثر کیا ہے اور 4 ہزار 500 سے زائد دیہات مکمل یا جزوی طور پر زیر آب آ چکے ہیں۔ کھڑی فصلیں تباہ ہونے سے کسان شدید نقصان سے دوچار ہیں جبکہ ہزاروں مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق اب تک 24 لاکھ 51 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ متاثرہ اضلاع میں 396 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں متاثرین کو عارضی پناہ، خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ دریاؤں اور ڈیمز میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ تربیلا ڈیم مکمل طور پر بھر چکا ہے جبکہ منگلا ڈیم کی سطح 92 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے، جس کے پیش نظر ریسکیو اور ریلیف آپریشن مزید تیز کر دیے گئے ہیں۔